پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں مظاہرین پر تشدد کی صورت میں امریکی مداخلت پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم امریکا کی جانب سے دوسروں کو ’بچانے‘ کے تجربات سے بخوبی واقف ہے، چاہے وہ عراق ہو، افغانستان ہو یا غزہ۔ دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے جواب میں انگریزی زبان میں ایکس پر کہا کہ اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد پردے کے پیچھے ہونے والی سرگرمیاں اب واضح ہو چکی ہیں۔ علی لاریجانی نے کہا کہ ایران مظاہرہ کرنے والے تاجروں کے مؤقف اور ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں میں واضح فرق کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی اور امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو جان لینا چاہیے کہ اس مہم جوئی کی ابتدا خود ٹرمپ نے کی ہے، لہٰذا انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ اکاؤنٹ پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے پُرامن مظاہرین پرتشدد کیا یا انہیں قتل کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا۔ امریکی صدر نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ ہم مظاہرین کو بچانے جانےکے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
