برطانیہ کی شہریوں کو 5 اقسام کی غذائیں ذخیرہ کرنے کی ہدایت

پاکستان نیوز پوائنٹ
برطانیہ میں ممکنہ شدید موسمی حالات کے پیش نظر شہریوں کو ضروری خوراک اور پانی پہلے سے ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکام ال نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث موسم میں غیر معمولی تبدیلیوں کے لیے تیاری پر زور دے رہے ہیں۔برٹش نیوٹریشن فاؤنڈیشن سے وابستہ غذائی ماہر ڈاکٹر سیمی گل نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسی خوراک گھر میں رکھیں جو طویل عرصے تک خراب نہ ہو اور ہنگامی صورتِ حال میں آسانی سے استعمال کی جا سکے۔ ان کے مشورے میں ڈبہ بند پھل، محفوظ شدہ غذائیں، پروٹین سے بھرپور اشیا جیسے چنے اور ڈبہ بند چکنی مچھلی، دیر تک محفوظ رہنے والی کاربوہائیڈریٹس اور زیادہ مدت تک قابلِ استعمال دودھ شامل ہیں۔ماہر نے ناشتے کے بعض اناج، اسنیک بارز اور زیادہ نمک والی اشیا، خصوصاً ڈبہ بند سوپ، کو ذخیرہ کرنے سے گریز کا مشورہ بھی دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات کے لیے خوراک کا انتخاب کرتے وقت غذائیت اور طویل عرصے تک محفوظ رہنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔یہ مشورہ ال نینو کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے حکومتی انتباہات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ال نینو ایک قدرتی موسمی رجحان ہے جس میں بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہےاور یہ عموماً دو سے سات سال کے وقفے سے آتا ہے۔ اس کے اثر سے دنیا کے کئی خطوں میں شدید بارشیں یا خشک سالی اور غیر معمولی گرمی دیکھنے میں آتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں یہ اکثر مون سون کی بارشوں میں کمی سے جڑا سمجھا جاتا ہے تاہم اس تبدیلی کے اثرات دنیا کے مختلف علاقوں کے موسم پر پڑ سکتے ہیں۔حالیہ پیش گوئیوں میں ال نینو کے نومبر کے دوران مضبوط ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم موسمیاتی پیش گوئیوں میں مختلف عوامل شامل ہوتے ہیں اور کسی خاص خطے میں اس کے اثرات کی شدت پہلے سے مکمل یقین کے ساتھ طے نہیں کی جا سکتی۔برطانوی حکومت نے شہریوں کو موسم کی ممکنہ شدت کے مقابلے کے لیے بنیادی تیاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر ماحولیات انجیلا ایگل نے کہا ہے کہ لوگوں کو زیادہ خشک موسمِ گرما اور زیادہ مرطوب موسمِ سرما جیسے حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ہنگامی صورتِ حال میں امدادی اداروں کو پہنچنے میں وقت لگے تو گھر میں بنیادی خوراک اور دیگر ضروری اشیا کا موجود ہونا لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔حکومتی ہدایات میں پانی ذخیرہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ سفارش کے مطابق ہر فرد کے لیے روزانہ تقریباً تین لیٹر پینے کا پانی دستیاب ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایسی غذائیں اسٹور کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے جنہیں فوری طور پر پکانے کی ضرورت نہ پڑے۔ شہریوں کو ہنگامی بیگ بتدریج تیار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔موسمی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات صرف گھریلو سطح تک محدود نہیں ہیں .بلکہ خوراک کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ برطانوی فوڈ اینڈ ڈرنک فیڈریشن کے مطابق شدید گرمی پہلے ہی پھلوں، سبزیوں اور اناج کی پیداوار اور رسد پر اثر انداز ہوئی ہے۔فیڈریشن سے وابستہ ڈاکٹر لیلیانا دانیلا کے مطابق برطانیہ کی خوراک اور مشروبات کی صنعت اضافی اخراجات کو جہاں تک ممکن ہو خود برداشت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یوکرین کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِحال سمیت دیگر عالمی عوامل نے بھی صنعت پر دباؤ بڑھایا ہوا ہے۔ ان کے مطابق فصلوں میں کمی کی صورت میں پیدا ہونے والا اضافی دباؤ مستقبل میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔حکام کی جانب سے خوراک اور پانی ذخیرہ کرنے کا مشورہ کسی ایک ممکنہ بحران تک محدود نہیں بلکہ عمومی ہنگامی تیاری کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ شدید موسم، رسد میں عارضی رکاوٹ یا کسی دوسری ہنگامی صورتِ حال میں شہری بنیادی ضروریات کے لیے فوری طور پر امدادی اداروں پر انحصار کرنے کے بجائے کچھ عرصے تک اپنے طور پر گزارا کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *