وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چکن اور پولٹری مصنوعات کے نرخ میں مسلسل اضافے پر برہمی کا اظہار کیا ہے

پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والا کوئی گروہ نہیں بچے گا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ مقدس کتابوں کی بے حرمتی کی روک تھام ضروری ہے، ہمیں اپنی عدالت گلی اور محلوں میں لگانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے.میرا فرض انصاف کرنا ہے، جرم کی تصدیق کے بعد کوئی مسلمان ،ہندو ،سکھ یا عیسائی نہیں رہتا،وہ مجرم ہوتا ہے، مجرم کو سزا ملنی چاہیے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میرے اپنے تین بچے ہیں،اس صوبے کے بچوں کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہے. ایک مدرسے کے بچے کے ساتھ زیادتی ہوئی، مدرسے سے تعلق رکھنے والے کا جرم ثابت ہوگیا، جب پولیس نے پکڑا تو مذہب کا مسئلہ بنادیا گیا. اس مسئلے پر میر خلاف سوشل میڈیا پر سازش ہورہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو کہنا چاہیے کہ ایسے عناصر کو سزا ہونی چاہیے، کم از کم ہم اپنے اپنے مذہب کا چہرہ مسخ نہ کریں، ہمارا دین امن سکھاتا ہے.مجھے ایسے مسائل میں سب کے ساتھ کی ضرورت ہے. صرف منہ سے نہیں بلکہ آگے بڑھ کر ایسے واقعات کو روکنے کی ضرورت ہے۔مریم نواز نے کہا کہ قرآن پاک ، مذہب کی بے حرمتی کی شکایات آج کل بہت آرہی ہیں، ہم سب کو ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا، پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی لوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں، جلاؤ گھیراؤ اور قتل و غارت شروع ہوجاتا ہے، میرے لیے یہ سب باعث تشویش ہے. قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے دینا چاہیے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اتحاد بین المسلمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں جو واقعہ ہوا سب کیلئے باعث فکر ہے، اگر کوئی گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے گا تو کوئی نہیں بچے گا، میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے، دین سے محبت میرے خون میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018میں سیاسی سکور سیٹ کرنے کیلئے ہمیں نشانہ بنایا گیا، ہم نے باتیں سنیں ،گالیاں بھی کھائیں،نوازشریف کو نشانہ بنایا گیا، میرے والد کو نااہل کیا گیا ،والدہ کو کینسر ہوگیا تھا علاج کیلئے جانا پڑا، میں والدہ کی الیکشن مہم چلارہی تھی، ایک سیاسی جماعت نے چند افراد کو استعمال کیا،مجھے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہتک عزت کے قانون کی جتنی اب ضرورت ہے شاید کبھی نہیں تھی، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا غلط استعمال جاری ہے، لوگ جب ہتک عزت پر اعتراض کرتے ہیں تو مجھے ان کی سمجھ نہیں آتی، مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ لوگ کہتے ہیں ہتک عزت کرنا نہیں چھوڑیں گے، لوگ کہتے ہیں ہتک عزت کرکے ہمیں سزا نہیں ہونی چاہیے، کسی کی ہتک کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفت میں کسی کی عزت تار تار نہیں ہونی چاہیے، جو الزام لگایا ہے اس کا ثبوت مہیا کردیں گے تو بات ختم ہوجائے گی، اگر مقصد الزام لگانا ہوگا تو سزا تو ملے گی، ثبوت کے ساتھ الزام لگائیں گے تو کوئی کچھ نہیں کہے گا، آپ صرف الزام لگانے سے کسی کی برسوں کی کمائی عزت کو تار تار نہیں کرسکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *