وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کی پیداواری قیمت 8 سے 10روپے فی یونٹ ہے

پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی وزیر توانائی سردا ر اویس لغاری نے کہا ہے کہ کنڈوں اور غیر قانونی ٹرانسفارمرز کو بجلی فراہم نہیں کرسکتے،بجلی چوری 600ارب روپے سالانہ کا معاملہ ہے اس کو ہر حال میں روکیں گے،حکومت کی رٹ اور اختیار جہاں نہ ہووہاں آپ کیا کریں گے، بجلی چوری روکنا ہماری ذمہ داری ہے،لائن مین کنڈا ہٹانے جاتا ہے تو مجمع جمع ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ کنڈا نہیں ہٹاتے کیا کرلو گے۔ بجلی چوری600 ارب روپے سالانہ کا معاملہ ہے۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ بجلی چوری روکنے کیلئے ہم ہر چیز کریں گے کسی سیاسی دباﺅ، دھمکیوں اور احتجاج میں نہیں آئیں گے۔ اس رٹ کو نافذ کرانے کیلئے قانونی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اس چیز سے بہت گہرا تعلق ہے۔ بجلی چوری روکنے کیلئے لوڈ شیڈنگ کرنا ظلم ہے مگر اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی طریقہ نہیں ہے۔پیسکو اور قبائلی علاقوں میں وہاں137ارب روپے کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔ سندھ کے اندر کراچی کے علاوہ51ارب روپے کی سالانہ بجلی چوری ہورہی ہے۔پنجاب میں133 ارب روپے کی بجلی چوری ہورہی ہے۔بلوچستان میں100 ارب روپے کی بجلی چوری ہورہی ہے۔ لائن لاسزہمارے محکمے کے لوگوں کا قصور ہے۔ ہمارے محکمے کے لوگ لوگوں کو کہتے ہیں کنڈا لگاﺅ میٹر مت لوایسے اسٹاف کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر کا گفتگو کے دوران مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک اگر آج حکومت کے پاس ہوتاتو اس سے دس گنا بدتر ہوتا۔ فیڈر ز زبردستی کھلوانے کا گرڈ پر سات ارب روپے نقصان ہوا ہے۔خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان کوبجلی چوری روکنے کی درخواست کی ہے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ نے ہمارے کہنے سے پہلے ہماری مدد کرنا شروع کردی۔آٹو میٹک میٹرنگ سسٹم کیلئے بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے ہم وہ شروع کرنے لگے ہیں۔ ہر ٹرانسفارمر پر میٹر لگانے لگے ہیں تاکہ ہر ٹرانسفارمر پر اپنا نفع نقصان بتا سکیں۔ کل ہمارے پاس چھ ہزار میگا واٹ فالتو بجلی تھی۔ہم سے بجلی کی جو طلب تھی وہ ہم نے جان بوجھ کر فراہم نہیں کی۔ اگر ہم بجلی فراہم کرتے تو ہمیں دو ڈھائی ارب روپے کا مزید نقصان ہوتاجن فیڈرزکی مانگ ہے وہ صحیح میٹرز پر نہیں ہے۔ اگر ان کو ہم بجلی فراہم کرینگے تو اس کا بوجھ ان صارفین پر جائیگا جو میٹر لگا کر بیٹھے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *