پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیراعظم شہبازشریف کا قوم سے خطاب جاری ہے ۔وزیر اعظم نے کہا عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔صورتحال یہی رہی تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔اگلے آنے والے چند دنوں میں تیل مزید مہنگا ہوگا۔ ہفتے میں 4 دن سرکاری دفاتر کھلیں گے،تیل کی بچت کے لیے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی کی جائے گی۔اسکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتے کی چھٹیاں دی گئیں ۔ وفاقی حکومت نے سادگی اختیار کرنےسے متعلق اہم فیصلے کیے۔ غیر ملکی دوروں پر پابندی عائد کردی گئی ۔
وزیر اعظم نے کہا ایران سمیت پورا خطہ اس وقت جنگی صورتحال کی زد میں ہے، معاملات سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش میں ہیں ۔پاکستان کو مغربی سرحد پر دہشت گردی کا سامنا ہے امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں ۔ علی خامنہ ای اور ان کے اہلخانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کااظہار کرتا ہے۔خطے کو درپیش سنجیدہ اور پر خطر حالات کے تناظر میں قوم سے مخاطب ہوں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔صورتحال یہی رہی تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔سعودی عرب ،کویت،قطر،بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ برادر ملکوں کے قائدین سے تفصیلی بات چیت ہوئی ،پورا خطہ اس وقت جنگ کی لپیٹ میں ہے ،خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کی شدید خطرات لاحق ہیں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔صورتحال یہی رہی تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں خطے کے ممالک کے شانہ بشانہ ہے۔پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ہماری معیشت کا انحصار خلیج سے آنےوالے تیل اور گیس پر ہے،موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے مشکل فیصلے کیے ہیں،پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے کہیں زیادہ اضافہ کرنے کاکہا گیا۔خام تیل کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ، حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا ۔حکومت نے درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑ سکے۔عوام نے حکومتی فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے بھرپور ساتھ دیا۔اگلے آنے والے چند دنوں میں تیل مزید مہنگا ہوگا۔وزیر اعظم نے کہا وفاقی حکومت نے سادگی اختیار کرنےسے متعلق اہم فیصلے کیے ،سرکاری گاڑیوں کو ملنےوالے تیل میں 50 فیصد فوری کٹوتی کی جارہی ہے۔وزیر ، مشیر ، معاون خصوصی اگلے دو ماہ تنخواہ نہیں لیں گے ۔اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوٹی کی جارہی ہے ، غیرترقیاتی بجٹ میں 20 فیصد کٹوتی ہوگی،جون 2026 تک نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہوگی۔سرکاری محکموں میں گاڑیوں ، فرنیچر ، ائیر کنڈیشن اور دیگر ایشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ۔ وزیراعظم نے کہا 3 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے 2 دن کی تنخواہ کی کٹوٹی کی جائے گی۔ وفاقی و صوبائی کابینہ کے ارکان 2 ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے،وفاقی و صوبائی وزرا اور مشیروں کے غیر ملکی دوروں پر پابندی عائد کردی گئی۔صرف ملکی مفاد میں کیے جانے والے غیر ملکی دوروں کی اجازت ہوگی،سرکاری عشائیے اور افطار پارٹیوں پر بھی پابندی ہوگی،سرکاری سیمینارز ہوٹلوں کی بجائے سرکاری عمارتوں میں منعقد کیے جائیں گے۔ہفتے میں 4 دن سرکاری دفاتر کھلیں گے،تیل کی بچت کے لیے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی کی جائے گی۔ تمام اسکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتے کی چھٹیاں دی گئیں ۔ وزیراعظم ، گورنر اور وزرائے اعلی پر بھی غیر ملکی دوروں پر پابندی لگا دی گئی ۔ وزیر اعظم نے کہا فیصلے میں ایمبولینسز اور عوامی استعمال میں آنے والی بسیں شامل نہیں ، تمام سرکاری دفاتر کی 60 فیصد گاؑڑیاں کو بند کیا جارہا ہے ۔ پٹرول کی ذخیرہ اندوزی کرنےوالوں کے خلاف قانون حرکت میں آئےگا، حکومت نے ٹیلی کانفرنسز اور آن لائن ورکنگ کو ترجیح دینے کافیصلہ کیا گیا ۔گریڈ 20 اور اوپر افسروں کی تنخواہ سے2 دن کی کٹوتی کرکےعوامی ریلیف دیا جائےگا۔
