پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک معاہدہ چاہتا ہے اور مجھے بھی ڈیل کرنا پسند ہے. مگر ایرانی شرائط کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور امریکی بحری ناکہ بندی ایک فولادی دیوار کی طرح قائم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اس ناکہ بندی سے شدید مالی نقصان کا سامنا ہے اور ہم یہ جنگ زبردست طریقے سے جیت رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو امریکی صدر کا ابتدائی ردعمل تو معلوم ہوا ہے. لیکن ثالثوں کے ذریعے امریکا کا باضابطہ اور حتمی جواب ابھی موصول نہیں ہوا۔عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر کا ابتدائی ردعمل سامنے آیا ہے.تاہم ثالثوں کے ذریعے امریکا کا حتمی جواب نہیں ملا، ہم امریکی موقف ملنے کے بعد ہی آئندہ کا فیصلہ کریں گے کیونکہ اس ڈیڈلاک کا واحد حل صرف مذاکرات ہی ہیں۔ایران نے قطری ثالثوں کے ذریعے جو سات روزہ منصوبہ بھیجا تھا، اس میں شرط رکھی گئی تھی کہ اگر امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے، تیل کی پابندیوں میں استثنیٰ دے اور بارہ ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے تو ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی نافذ ہو جائے گی۔ایران کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ سات روزہ منصوبہ دراصل اسی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا ایک مختصر ورژن ہے جس پر جون کے مہینے میں دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے تھے. مگر بعد میں وہ معطل ہو گیا تھا۔اس فریم ورک کے تحت لبنان سمیت تمام علاقوں میں جنگ بند کر کے تیس دن کے اندر ناکہ بندی کا خاتمہ اور 60 دن کے اندر جامع معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنا شامل تھے۔تاہم واشنگٹن کی جانب سے سخت مؤقف اختیار کیے جانے اور شرائط کو ناقابلِ قبول قرار دیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی اور معاشی بحران کم ہونے کے بجائے مزید طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے
