پاکستان نیوز پوائنٹ
حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پر عمل کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اختیارات تبدیل کر دیئے ہیں۔ جس کے تحت ایف بی آر اب صرف ٹیکس وصول کرے گا، ٹیکس پالیسی نہیں بنائے گا۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کی تعمیل کرتے ہوئے حکومت نے وزارت خزانہ میں ٹیکس پالیسی آفس کو فعال کر دیا ہے۔ جس کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) اب صرف ٹیکس اکٹھا کرنے والا ادارہ ہوگا اور ٹیکس پالیسی نہیں بنائے گا، ٹیکس پالیسی بنانے کا اختیار نئے دفتر کے پاس ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نجیب احمد میمن کو 2 سال کے لیے ٹیکس پالیسی آفس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جب کہ دیگر اہم تقرریوں کا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا ہے۔ نعیم حسن کو ڈائریکٹر بزنس ٹیکسیشن، فدا محمد کو ڈائریکٹر انٹرنیشنل ٹیکسیشن، منیر احمد کو ڈائریکٹر ڈائریکٹ/ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن اور اعجاز حسین کو ڈائریکٹر پرسنل ٹیکسیشن تعینات کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس پالیسی آفس آئندہ ہفتے سے کام شروع کر دے گا اور قواعد و ضوابط کی تیاری مکمل کر لی جائے گی۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ نیا دفتر انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق پالیسی تیار کرے گا جب کہ مالی سال 2027 کے لیے ٹیکس پالیسیوں کی تیاری کا عمل اگلے ہفتے شروع ہونے جا رہا ہے۔
