پاکستان نیوز پوائنٹ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے خلع سے متعلق اہم فیصلہ سنادیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہاہے کہ خاتون کی رضامندی کے بغیر طلاق کو خلع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا،سپریم کورٹ نے نکاح کو ظلم کی بنیاد پر طلاق کے ذریعے تحلیل کردیا۔
فیصلے کے مطابق فیملی کورٹ نے ظلم کے الزامات پر فیصلہ دینے کے بجائے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کیا،سپریم کورٹ نے خاتون کو 12 لاکھ روپے بقایا حق مہر ادا کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ کے مطابق بغیر واضح رضامندی دعویٰ طلاق کو خلع میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا،فیملی کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کی قانونی تشخیص غلط قراردے دی گئی۔جسٹس مسرت ہلالی نے معاملے میں 5صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں واضح کیا کہ خاتون کی رضامندی کے بغیر طلاق کو خلع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار نائلہ جاوید نے شادی ختم کرنے کی درخواست ظلم اور قانونی بنیادوں پر دائر کی،فیملی کورٹ نے ظلم کے الزامات پر فیصلہ دینے کے بجائے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کیا،فیملی کورٹ نے خلع کے بدلے خاتون کو بقایا حق مہر چھوڑنے کا حکم دیا تھا، درخواست گزار نے خلع نہیں مانگا تھا،بغیر واضح رضامندی دعویٰ طلاق کو خلع میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کورٹ کے مطابق شوہر ناصر خان نے دوران مقدمہ دوسری شادی کی،بغیر اجازت دوسری شادی مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن 6 کی خلاف ورزی ہے،شوہر نے اعتراف کیا کہ اس نے بیوی کی اجازت یا مصالحتی کونسل کی منظوری نہیں لی، شوہر نے بیوی کو نان و نفقہ بھی فراہم نہیں کیا،جرح کے دوران خاتون کی کردار کشی کی گئی، یہ تمام عوامل قانونی طور پر ظلم کے زمرے میں آتے ہیں،ایسی صورتحال میں خاتون کا شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار نافرمانی نہیں۔
