پاکستان نیوز پوائنٹ
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پانی کو کبھی بھی جبر کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے اور پاکستان کے خلاف پانی کو بطورِ جنگی حربہ استعمال کرنے کی کوششوں کو مسترد کرنا ضروری ہے، کیونکہ دریائوں کے بہائو میں تعطل لاکھوں زندگیوں، روزگار اور غذائی نظام کے لیے خطرہ ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر میں آبی ذخائر کے تحفظ اور پائیدار انتظام کے لئے ہماری وابستگی کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں، یہ دن 1971 میں آبی ذخائر کے کنونشن، جسے رامسر کنونشن بھی کہا جاتا ہے، کے نفاذ کی یاد دلاتا ہے، پاکستان اس اہم معاہدے کا رکن ہے، جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے آبی ذخائر ، ان کے وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو فروغ دیتا ہے۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ ہمارے آبی ذخائر سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور سمندر کی سطح میں اضافے کے خلاف دفاع کی اولین صف کا کردار ادا کرتے ہیں، پاکستان کے متنوع آبی ذخائر، جن میں دریائی سیلابی میدان، بلند پہاڑوں پہ جھیلیں اور گلیشیئر، اندرونی آبی ذخائر اور ساحلی و مینگروو ماحولیاتی نظام شامل ہیں، یہ ذخائر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی، پانی کے نظم و نسق اور آفات کے خطرات میں کمی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،ملک بھر میں آبی ذخائر کو غیر متوقع مون سون، گلیشیئر کے پگھلا میں تبدیلی اور تیزی، شدید گرمی )ہیٹ ویوز) ، کم ہوتے سیلابی حفاظتی نظام اور بڑھتی ہوئی آلودگی جیسے دبائو کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں آبی ذخائر کو خاص طور پر زیادہ مسائل درپیش ہیں، جہاں تاریخی طور پر پانی کی کمی اور سمندر کی سطح میں اضافے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے،انڈس ڈیلٹا اور (مینگروو) تمر کے جنگلات، جو کبھی پانی کی کثرت والے علاقوں میں شمار ہوتے تھے، آج نمکین پانی کے پھیلائو ، ساحلی کٹا اور مچھلیوں کی افزائش گاہوں کے خاتمے کا سامنا کر رہے ہیں، اسی طرح کینجھر، ہالیجی اور منچھر جیسے اندرونی آبی ذخائر میں تازہ پانی کی آمد میں کمی، طویل خشک سالی اور آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ماہی گیری، پینے کے پانی کی دستیابی اور ہجرت کرنے والے پرندوں کے راستے متاثر ہو رہے ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی شہریوں کے لیے آبی ذخائر روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں، یہ گھریلو استعمال اور منڈیوں کے لیے مچھلی فراہم کرتے ہیں، مویشیوں کے چرنے کے لئیچراگاہیں مہیا کرتے ہیں، ایندھن اور رہائش کیلئے گھاس اور نباتات دیتے ہیں اور شدید بارش یا پانی کی کمی کے دوران دیہات کو قدرتی تحفظ فراہم کرتے ہیں، جب آبی ذخائر متاثر ہوتے ہیں تو لوگوں کو آمدنی میں کمی، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، غیر محفوظ پانی اور سیلاب و خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمارے خطے میں پانی کی سلامتی ذمہ دار اور قانونی سرحد پار تعاون پر منحصر ہے، پاکستان سندھ طاس معاہدے ( انڈس واٹرز ٹریٹی 1960) پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے، جو ایک قانونی معاہدہ ہے اور دہائیوں سے انڈس بیسن میں منصفانہ پانی کی تقسیم کو یقینی بناتا رہا ہے، معاہدے کے تحت طے شدہ طریقہ کار کی معطلی، بشمول ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی میں رخنہ اس بھروسے اور پیش گوئی کی صلاحیت کو مجروح کرتی ہے جس کی ماحولیاتی دبائو کے اس دور میں اشد ضرورت ہے۔صدرِ مملکت نے کہا کہ اس اہم دن پر میں تمام شہریوں، بالخصوص نوجوانوں، مقامی برادریوں اور پالیسی سازوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آبی ذخائر کو جاندار ثقافتی اور ماحولیاتی اثاثے سمجھتے ہوئے ان کی قدر کریں، ان کا تحفظ کریں اور انہیں پائیدار بنیادوں پر منظم کریں، آبی ذخائر کا تحفظ صرف قدرتی معاملہ نہیں بلکہ افراد، روزگار اور قومی مدافعت کا معاملہ ہے، پاکستان اس بات کی وکالت جاری رکھے گا کہ ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ان آبی ذخائر کا تحفظ ہے جو ہماری حفاظت کرتے ہیں۔
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن…
پاکستان نیوز پوائنٹ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے…
پاکستان نیوز پوائنٹ سعودی سیکریٹری جنرل کی قیادت میں 43 اسلامی ممالک کی انسدادِ دہشتگردی…
پاکستان نیوز پوائنٹ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں، جن کے دوران…
پاکستان نیوز پوائنٹ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیسرے…
پاکستان نیوز پوائنٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے…