پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد لاطینی امریکا کے دیگر ممالک کے خلاف بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کولمبیا میں امریکی فوجی کارروائی کو ’’اچھا خیال‘‘ قرار دے دیا۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کولمبیا کی صورتحال کو خراب قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہاں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ بدستور جاری ہے، جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو کولمبیا میں امریکی آپریشن ان کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔امریکی صدر نے کیوبا سے متعلق بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور بظاہر خود ہی زوال کے قریب ہے۔ ٹرمپ کے مطابق کیوبا کی معیشت بڑی حد تک وینزویلا کے تیل پر انحصار کرتی تھی، جو اب بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا اس وقت وینزویلا کے معاملات میں کنٹرول رکھتا ہے اور اگر تعاون نہ کیا گیا تو دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے، حالانکہ وینزویلا کی سپریم کورٹ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر مقرر کر چکی ہے۔اسی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے میکسیکو کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اسے اپنا نظام درست کرنا ہوگا، ورنہ امریکا سخت اقدامات پر مجبور ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات لاطینی امریکا میں امریکی بالادستی کے اظہار کی ایک نئی کوشش سمجھے جا رہے ہیں۔
