پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان نیوز پوائنٹ
پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران رائل سعودی ایئر فورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ترکی بن بندر بن عبدالعزیز اور چیف آف جنرل اسٹاف، جنرل فیاض بن حمید الرویلی سے ملاقات کی۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فضائیہ کے سربراہ کی آمد پر انہیں رائل سعودی ایئر فورس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا‘۔ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں دفاعی اشتراک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں ممالک کے فضائی سربراہان نے موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تربیت، آپریشنل اشتراک اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امر پر زور دیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو باہمی اعتماد اور پائیدار برادرانہ تعلقات کی واضح توثیق کا عملی نمونہ قرار دیا گیا۔دونوں فریقین نے دفاعی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرتے ہوئے اشتراکِ عمل کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دفاعی قیادت نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کی فضائی افواج کے مابین قائم قریبی اور دیرینہ روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘بیان کے مطابق سعودی عسکری قیادت نے پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل برتری اور تیاریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا بازی اور ایرو سپیس صنعت میں اسکی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا۔ واضح رہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ایک روز قبل رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ بات چیت جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے، جو پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ ہلکا لڑاکا طیارہ ہے اور پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں ایک ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ زیرِ غور دیگر آپشنز کے مقابلے میں جے ایف 17 طیارے بنیادی انتخاب ہیں۔رپورٹ کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہے، جس میں 2 ارب ڈالر کی قرض کی رقم کے علاوہ مزید 2 ارب ڈالر کا دفاعی سازوسامان بھی شامل ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *