پاکستان نیوز پوائنٹ
عالمی مالیاتی فنڈ کا نیا مشن پاکستان میں گورننس کو بہتر بنانے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مختلف اہم اداروں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق یہ دوسرا مشن دو ماہ کے اندر پاکستان پہنچا ہے جس کا بنیادی مقصد ملک کے ادارہ جاتی نظام میں شفافیت لانا اور ریاستی مشینری کی کارکردگی کو مؤثر بنانا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مشن گورننس اور بدعنوانی کے خطرات کا ابتدائی تشخیصی جائزہ تیار کرے گا اور چھ اہم ریاستی شعبوں میں اصلاحات کے امکانات کا تجزیہ کرے گا ان شعبوں میں مالیاتی نگرانی مارکیٹ کے ضوابط قانون کی حکمرانی اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات اور دیگر متعلقہ امور شامل ہیں تاکہ ریاستی سطح پر فیصلہ سازی کو بہتر اور بدعنوانی سے پاک بنایا جا سکے آئی ایم ایف مشن تقریباً تیس مختلف وفاقی اور صوبائی محکموں کے ساتھ ان کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی مذاکرات کرے گا ان اداروں میں وزارت خزانہ سٹیٹ بینک آف پاکستان فیڈرل بورڈ آف ریونیو منصوبہ بندی کمیشن نجکاری کمیشن آڈیٹر جنرل نیب ایف آئی اے اوگرا اور دیگر اہم محکمے شامل ہیں جن سے مشن مختلف پالیسیوں اور اصلاحاتی حکمت عملیوں پر گفتگو کرے گا مشن پاکستان کے بینکنگ سیکٹر اور تعمیراتی صنعت میں مسابقت کا بھی جائزہ لے گا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ ان شعبوں میں کارکردگی میں بہتری اور شفافیت کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے مشن کی کوشش ہے کہ پاکستان میں ایسے نظام کو فروغ دیا جائے جو معاشی ترقی میں معاون ہو اور بدعنوانی کی حوصلہ شکنی کرے یہ دورہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری تعاون کا تسلسل ہے جس کا مقصد صرف مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ گورننس میں بہتری کے ذریعے دیرپا معاشی استحکام کو یقینی بنانا بھی ہے
