پاکستان نیوز پوائنٹ
سرکاری اور مقامی حکام کے مطابق کم از کم 75 افراد جاں بحق جبکہ متعدد لاپتہ ہیں, مرنے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق پیر بابا اور گردونواح کے گاؤں اچانک آنے والے آبی ریلے کی لپیٹ میں آگئے، جس سے درجنوں مکانات منہدم اور کھیت، باغات، مال مویشی سب بہہ گئے۔ مقامی اسپتال میں لائی جانے والی 56 لاشوں میں 25 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر بونیر نے تصدیق کی ہے کہ بارشوں کے بعد آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے پورے علاقے کو تباہ کر دیا، رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے اور امدادی ٹیموں کو متاثرہ دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹے جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے مزید سیلابی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے، جبکہ پاک فوج اور ریسکیو 1122 کے اہلکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پانی کا ریلا اتنا تیز تھا کہ لوگ سنبھلنے کا موقع نہ پا سکے اور چند ہی منٹوں میں پورا گاؤں ڈوب گیا۔ علاقے میں کہرام مچ گیا ہے اور متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
