زرعی برآمدات کی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیراعظم شہباز شریف نے کسانوں کی خوشحالی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے زرعی برآمدات میں اضافے کے لیے جامع اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے وزیراعظم کی صدارت میں زرعی برآمدات کے فروغ اور زرعی شعبے کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قائم نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ زرعی اصلاحات، کسانوں کی استعداد میں اضافہ اور جدید زرعی طریقوں کا فروغ حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے معیاری بیج، بروقت اور مناسب قیمت پر کھاد، اور فصلوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے ذریعے برآمدات کے قابل مصنوعات تیار کرنے کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ حال ہی میں ایک ہزار پاکستانی طلبہ کو سرکاری خرچ پر چین بھیجا گیا ہے تاکہ وہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زرعی ترقی کی وسیع صلاحیت موجود ہے اور تحقیق و جدت میں سرمایہ کاری کے ذریعے پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے ماہی گیری، پھلوں اور ویلیو ایڈیڈ زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے، ساحلی علاقوں میں پام آئل کی کاشت کے لیے پالیسی اقدامات تیار کرنے اور آئندہ پانچ برس میں زرعی برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے جامع حکمت عملی پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں چیئرمین ورکنگ گروپ رانا نسیم اور ان کی ٹیم نے زرعی شعبے سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی، جس میں موجودہ چیلنجز، قلیل اور طویل مدتی اصلاحات اور عالمی سطح پر تقابلی جائزہ شامل تھا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ وسائل کے اندر رہتے ہوئے فی ایکڑ اوسط پیداوار بڑھانے کے لیے معیاری بیج، مؤثر ایکسٹینشن سروسز اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ زرعی اجناس کی عالمی منڈی میں قدر بڑھانے کے لیے سرٹیفکیشن نظام متعارف کرانے پر کام جاری ہے، جس سے کسانوں کے منافع میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ تحقیقی اداروں کی اصلاحات کے ذریعے نئی، منافع بخش اور مقامی موسمی حالات سے ہم آہنگ فصلوں کی کاشت کو فروغ دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ورکنگ گروپ کی بریفنگ کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ایک جامع، مؤثر اور قابلِ عمل روڈ میپ تیار کر کے اسے حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *