پاکستان نیوز پوائنٹ
عالمی بینک نے عالمی معاشی امکانات سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں پاکستان کی رواں مالی سال کی معاشی شرحِ نمو 3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کے تخمینے میں 0.1 فیصد کمی کی گئی ہے۔ اس سے قبل حکومتی سطح پر اقتصادی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا، تاہم عالمی بینک نے موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر نظرثانی شدہ تخمینہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی معاشی شرحِ نمو میں بہتری آ سکتی ہے اور یہ 3.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ عالمی بینک کے مطابق حالیہ سیلاب کے بعد زرعی شعبے کی بحالی معیشت کے لیے سہارا بن سکتی ہے، جبکہ تعمیرِ نو اور بحالی کے منصوبوں سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ عالمی بینک نے نشاندہی کی ہے کہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی کا امکان موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ شرحِ سود میں کمی کی گئی ہے، تاہم مانیٹری پالیسی کو محتاط رکھا گیا ہے تاکہ مالی استحکام برقرار رہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی ٹیرف میں ممکنہ اضافے سے پاکستان کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ درآمدات میں اضافے کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ترسیلاتِ زر کے معمول پر آنے سے بیرونی مالی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم عالمی بینک کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور بینک قرضوں میں اضافے کے آثار نظر آ رہے ہیں، جو مجموعی معاشی سرگرمیوں کے لیے مثبت اشارہ سمجھے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026 میں عالمی معاشی شرحِ نمو 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2027 میں یہ بڑھ کر 2.7 فیصد تک جا سکتی ہے۔
