پاکستان نیوز پوائنٹ
انسانی اسمگلنگ کے جرم میں ملوث ایک اور بھارتی شہری کو امریکی عدالت نے سزا سنا دی ہے، جبکہ امریکی محکمہ انصاف نے اس فیصلے کو منظم جرائم پیشہ سرگرمیوں کے خلاف بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک میں ملوث بھارتی شہری شیوم لنو کو امریکی عدالت کی جانب سے سزا سنا دی گئی ہے۔ محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملزم درجنوں افراد کو غیرقانونی طور پر امریکا داخل کرانے میں ملوث رہا اور گزشتہ برس کئی غیرقانونی آپریشنز کا حصہ تھا۔ امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایک منظم نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا گیا، جو غیرقانونی تارکینِ وطن کو بھاری رقوم کے عوض مختلف راستوں سے امریکا منتقل کرتا تھا۔ اس نیٹ ورک کے تحت جعلی دستاویزات، غیرقانونی سرحدی راستے اور منظم سہولت کاری کا استعمال کیا جاتا رہا۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد بھارتی شہری امریکا میں غیرقانونی داخلے کے دوران گرفتار کیے گئے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں بھارتی شہری غیرقانونی راستوں سے امریکا پہنچنے کی کوشش کرتے رہے، جس کے باعث امریکی حکام کو سخت اقدامات کرنا پڑے۔ بھارتی شہریوں کی بڑھتی ہوئی غیرقانونی سرگرمیوں کے باعث نہ صرف امریکا بلکہ آسٹریلیا اور یورپی ممالک بھی سخت ایکشن لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان ممالک نے ویزا قوانین مزید سخت کرنے، نگرانی بڑھانے اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی اور ایسے جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا رہے گا۔
