پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی اور خوشگوار ملاقاتیں کیں۔ وزیرِاعظم نے بحرین کے فرمانروا شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے ملاقاتیں کیں، جن میں اہم عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقاتوں میں خوشگوار ماحول میں مسکراہٹوں کا بھی تبادلہ کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اس وقت واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شریک ہیں، جہاں پاکستان کی شرکت غزہ میں امن کے قیام، عالمی امن اور سفارتی پالیسی کی کامیابیوں کا عکاس ہے۔ قبل ازیں، غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رک گئی تھی، جس سے ہزاروں قیمتی جانیں بچ گئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹرمپ کی مداخلت نے جنوبی ایشیا کو ایک بڑی تباہی سے بچایا۔ وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حقوق پر بھی بات کی، اور کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے زور دیا کہ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے لئے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے آج کا دن ایک سنہری موقع ہے، اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کے حقوق دیے جانے چاہئیں۔ وزیراعظم پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ دیرپا امن قائم ہو سکے۔
