پاکستان نیوز پوائنٹ
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ہم نے تیسری عالمی جنگ ہونے سے روکی ہے، 100 سال کی ڈپلومیسی میں بھی یہ کامیابی نہیں مل سکتی تھی۔قومی ادارہ برائے صحت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اللہ تعالی نے ریاست چلانے والوں سے کام لے لیا ہے، ہمیں آج گرین پاسپورٹ پر کریڈٹ مل رہا ہے، 100 سال کی ڈپلومیسی سے بھی یہ کامیابی نہیں مل سکتی تھی، ہم نے تیسری جنگ عظیم روکی ہے۔انہوں نے کہا کہ تونسہ میں اس سال ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو کیس رپورٹ کیا جا رہا ہے وہ 2024 کا ہے جبکہ اسلام آباد میں ایچ آئی وی کا کوئی آؤٹ بریک نہیں ہوا ، کل 618 کیسز ہیں، جن میں سے اسلام آباد سے 210 کیسز ہیں، اسلام آباد میں راولپنڈی، آزاد کمشیر، کے پی کے اور گلگت بلتستان سے لوگ آتے ہیں جن کی تعداد 408 ہے، یچ آئی وی کے خطرات موجود ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے گلوبل فنڈ امداد کرتا ہے، 2024 سے 2026 کےلیے فنڈ 65 ملین ڈالر تھا، جس کی معیاد جون 2026 میں ختم ہو جائے گی، 65 ملین ڈالر میں سے حکومت کو 3.9 ملین ڈالر کو دیے گئے، 61.1 ملین ڈالر کی ہم باز پرس نہیں کر سکتےکیونکہ یہ این جی اوز کےپاس ہے، باقی رقم نئی زندگی اور یو این ڈی پی کو دی گئی ہے۔وفاقی وزیر صحت نے یہ بھی بتایا کہ 2020 تک پورے ملک میں 49 اے آر ٹی سینٹرز تھے، ان میں 37000 لوگوں کی اسکریننگ ہوئی جن میں سے 6910 کیسز مثبت آئے، 2025 میں اے آر ٹی سینٹرز کی تعداد 97 ہو گئی، ان سینٹرز میں 374126 ٹیسٹ ہوئے، 14182 کیسز مثبت آئے،کیسز میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، پاکستان میں ایچ آئی وی کے 84000 کیسز رجسٹرڈ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ61ہزار لوگوں کا علاج جاری ہے اور 24ہزار مریض لاپتاہیں، ایچ آئی وی کی دوا صرف حکومت کے پاس سے ملتی ہے، ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں، جو علاج کروا رہا ہو اس سے بیماری پھیلتی نہیں ہے، ایسے مریض کو زندگی بھر دوا لینا پڑتی ہے، اب ایسی دوا آ رہی ہے جس کی سال یا 6 ماہ میں ایک ڈوز لینی ہوگی۔مصطفیٰ کمال کے مطابق 8 لاکھ ڈالر کی مچھر دانیاں پاکستان سےچوری ہوئیں،کسی کو سزا نہیں ہوئی، ہم اپنی کوتاہیوں کو چھپائیں گے نہیں، ہیلتھ کیئرسسٹم کوسنجیدہ نہیں لیا تو بہت پیچھے رہ جائیں گے، میرے پاس قابل ٹیم ہے، ہم نے بڑی ریفارمز کی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں پہلے 3 سی سی کی سرنج پر پابندی عائد کی گئی، اب 10 سی سی کی سرنج پر بھی پابندی لگانے جا رہے ہیں، 10 سی سی پر پابندی کی ڈریپ سے منظوری ہوگئی ہے، اب کابینہ پاس کرے گی، ایچ آئی وی کے 98 اسکریننگ سینٹرز ہیں، اسے 106 کرنے جا رہے ہیں۔
