ایران پر امریکی حملوں کے بعد صدر پزشکیان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے پہلی طویل ملاقات

پاکستان نیوز پوائنٹ
اایرانی صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے ملاقات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے اسے انتہائی دوستانہ، پرسکون اور باہمی اعتماد پر مبنی قرار دیا ہے۔ایرانی نیوز ایجنسی میزان کے مطابق تہران میں تجارتی نمائندوں اور بازار کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے بتایا کہ سپریم لیڈر کے ساتھ ان کی ملاقات ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ تاہم یہ ملاقات کب ہوئی، انہوں نے اس کی کوئی مخصوص تاریخ واضح طور پر نہیں بتائی۔صدر مسعود پزشکیان نے ملاقات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملاقات نہایت دوستانہ، پُرسکون ماحول میں ہوئی. جس میں براہِ راست اور کھلے انداز میں گفتگو کی گئی۔یہ ملاقات اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد سے ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں اور اس کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ ایرانی صدر کا یہ دعویٰ ان کی صحت اور فعال ہونے کی تصدیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔صدر مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامی عہدہ کوئی مراعات یا برتری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ عوام کی خدمت، احتساب اور عزم کا ایک بھاری بوجھ ہے۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں سب سے زیادہ جس چیز نے انہیں متاثر کیا، وہ سپریم لیڈر کا طرزِ گفتگو، رویہ اور مسائل کو دیکھنے کا انداز تھا. جس نے ماحول کو اعتماد، سکون، ہمدردی اور براہِ راست مکالمے کی فضا میں تبدیل کر دیا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی دباؤ یا سازش کو اپنی قوم کی ترقی، آزادی اور قومی وقار کی راہ میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران کی مستقبل کی حکمت عملی اگرچہ مشکل ہے.لیکن یہ راستہ باوقار ہے اور اسے عوام کی ہمدردی، شمولیت اور معاشی اداروں کے تعاون سے مضبوطی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *