ٹرمپ کی زیر صدارت اجلاس بے نتیجہ ختم، ایران کے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوسکا

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے نہ صرف جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایسے ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے جسے انہوں نے جاری مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا، ایران کے ساتھ ایک اچھی ڈیل نہ ہوئی تو دوبارہ فوجی آپریشن کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تنازع کے بجائے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ کسی بھی سمجھوتے کے بعد آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جا سکتا ہے،سارے پتے امریکا ہی کے پاس ہیں، ایران اس وقت بہت بری پوزیشن میں ہے، ایران کی فوج، نیوی اور فضائیہ کا مکمل صفایا کیا جاچکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں،مریکا اور ایران معاہدےکے بہت قریب ہیں،، جو ہم چاہتے ہیں وہ ایران سے حاصل کررہے ہیں،،ہم کسی جلدی میں نہیں، ورنہ اچھی ڈیل نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق ابتدائی طور پر ایرانی مؤقف صرف جوہری ہتھیار نہ بنانے تک محدود تھا تاہم امریکی اعتراض کے بعد اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ ایران کسی بھی شکل میں جوہری نوعیت کا عسکری ہتھیار خریدنے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہیں اور بات چیت میں وقت لگ رہا ہے تاہم واشنگٹن اس معاملے میں جلد بازی کے بجائے پائیدار نتائج چاہتا ہے۔ امریکی صدر نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے ایران کی عسکری قیادت اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا لیکن ایرانی فوج کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے گریز کیا گیا۔ ان کے بقول بعض سابق جنگوں سے یہ سبق ملا ہے کہ کسی ملک کے تمام ریاستی ڈھانچے کو ختم کر دینا طویل المدتی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی میں عراق میں ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار مختلف حکمت عملی اپنائی گئی تاکہ مستقبل میں خطے میں استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *