پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلسل 13واں بجٹ پیش کیا ہے اور اس پر سندھ کے عوام اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے شکر گزار ہیں، بجٹ میں تمام اہم نکات پیش کیے جا چکے ہیں، اپوزیشن نے انہیں توجہ سے نہیں سنا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ بجٹ بحث میں مجموعی طور پر 143 ارکان نے حصہ لیا جو سندھ اسمبلی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے، ان کے مطابق 163 میں سے 143 ارکان، یعنی 88 فیصد نے اظہار خیال کیا جبکہ دیگر صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں اس کی شرح اس سے کم رہی، انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں تمام ارکان کو اظہار رائے کا مکمل حق حاصل ہے اور یہی سندھ کی رواداری اور محبت کا مظہر ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاق نے سندھ کو 2 ہزار 95 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک صرف ایک ہزار 750 ارب روپے موصول ہوئے ہیں جبکہ 176 ارب روپے مزید آنے ہیں،اس کے باوجود صوبے کو 244 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے،وفاق سے فنڈز بروقت نہ ملنے سے صوبے کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچے کے علاقوں میں آپریشن کے باعث پولیس کو 6 ارب روپے سے زائد اضافی فنڈز فراہم کیے گئے جبکہ سیلاب سے نمٹنے، ای پی آئی ویکسین کی خریداری اور دیگر ہنگامی ضروریات کے لیے بھی اضافی بجٹ مختص کیا گیا،گندم کے کاشتکاروں کو 43 ارب روپے سے زائد سبسڈی دینے کے نتیجے میں سندھ پہلی بار گندم کی پیداوار میں خودکفیل ہوا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں،کسانوں اور ماہی گیروں کے لیے بھی سبسڈی دی گئی جبکہ حیدرآباد۔سکھر موٹروے کے لیے برج فنانسنگ کا بندوبست کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے مالی دباؤ اور 344 ارب روپے کے بجٹ خسارے کے باوجود تقریباً 100 ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازہ سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور شاہراہ بھٹو بھی اسی ماڈل کے تحت تعمیر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے ریونیو اخراجات میں صرف 7 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ دیگر صوبوں میں یہ شرح 9 فیصد سے بھی زیادہ ہے،ان کے مطابق صوبے کا 1263 ارب روپے سے زائد بجٹ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہےجو مجموعی بجٹ کا نصف سے زیادہ حصہ بنتا ہے۔
