ٹرمپ کی زیر صدارت اجلاس بے نتیجہ ختم، ایران کے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوسکا

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی درخواست پر دونوں ممالک کے درمیان منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات ہوں گے، جب کہ وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی نمائندوں کی دوحہ روانگی کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات یا تکنیکی ٹیموں کی ملاقات کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان مذاکرات کی درخواست ایران کی جانب سے کی گئی تھی۔صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کیا، تاہم ایران کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ٹرمپ نے اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ عالمی منڈی میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 69 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جو ان کے بقول ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کے اقدامات شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے بھی کم ہے۔انہوں نے ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ان کی مقبولیت کی شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔صدرٹرمپ کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی دوحہ میں مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر منگل کو ایرانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔الجزیرہ‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر بات چیت کے سلسلے میں دونوں امریکی نمائندے قطر جائیں گے، جب کہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے موقع پر تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے۔اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں آئندہ چند روز میں دوحہ میں تکنیکی مذاکرات متوقع ہیں۔رپورٹ کے مطابق ثالثوں نے کسی بھی ممکنہ فوجی یا سیکیورٹی واقعے کی صورت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے خصوصی رابطہ نظام بھی قائم کیا ہے تاکہ جنگ بندی برقرار رکھی جا سکے۔رائٹرز‘ کے مطابق ایک سینئر ایرانی ذرائع نے بھی دوحہ میں ممکنہ ملاقات کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی صورت حال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر توجہ دی جائے گیاس سے قبل ایران نے دوحہ میں امریکا کے ساتھ تکنیکی مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس ہفتے کسی تکنیکی ورکنگ گروپ کے اجلاس کا شیڈول طے نہیں ہوا اور دوحہ میں ایسے مذاکرات سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس درست نہیں ہیں۔کاظم غریب آبادی نے کہا کہ تکنیکی بات چیت کا پہلا دور اس وقت ہوگا جب ضروری شرائط پوری ہو جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے مشاورت معمول کے مطابق جاری ہے اور مختلف امور پر رابطے برقرار ہیں۔واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے 17 جون کو 14 نکاتی عبوری مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے چار ماہ سے جاری کشیدگی ختم کرنے، جنگ بندی برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔معاہدے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط شدہ دستاویز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے تاریخی پیش رفت قرار دیا تھا۔ معاہدے میں ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی سمیت متعدد اہم شقیں شامل تھیں اور اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دستخط کیے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *