بلڈ کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے یہ دوائیں نہ خریدیں شہریوں کے لئے الرٹ جاری

پاکستان نیوز پوائنٹ
ڈریپ نے بلڈ کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی معروف برانڈز کی جعلی ادویات پر پابندی لگادی۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے خبردار کیے جانے کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے بلڈ کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی معروف برانڈز کی جعلی ادویات کے خلاف ملک گیر ‘ریپڈ الرٹ’ جاری کر دیا ہے۔ڈریپ نے ان ادویات کے متاثرہ بیچز کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے، ڈبلیو ایچ او اور ڈریپ کے مطابق، بلڈ کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے ‘ڈرزالیکس’ (Darzalex) انجکشن اور ‘جاکاوی’ (Jakavi) ٹیبلٹس مارکیٹ میں معروف کمپنیوں کے ناموں سے جعلی تیار کی جا رہی ہیں۔لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دوران یہ ادویات معیار پر پورا نہیں اتریں، ان میں کینسر کے علاج کا بنیادی خام مال سرے سے موجود ہی نہیں تھا جبکہ ڈرزالیکس انجکشن کے نمونوں میں غیر متعلقہ ذرات بھی پائے گئے ہیں۔ ڈریپ نے متنبہ کیا ہے کہ ان جعلی ادویات کا استعمال مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ڈریپ الرٹ کے مطابق، ڈرزالیکس انجکشن 400 ایم جی کا بیچ (STV1K01) اور 100 ایم جی کا بیچ (MYS7381) جعلی پائے گئے ہیں، جو مالدیپ اور میکسیکو میں ٹریس ہوئے تھے اور ان کی پیکنگ پر ‘جانسن کیلاگ بیلجیئم’ کا پتہ درج ہے. تاہم اصل کمپنی نے ان بیچز کو جعلی قرار دے دیا ہے۔اسی طرح جاکاوی ٹیبلٹ 20 ایم جی کا بیچ (AVT50)، 15 ایم جی کا بیچ (FNR06) اور 10 ایم جی کا بیچ (SGL04) جعلی پائے گئے ہیں، جن کی پیکنگ پر ‘نووارٹس فارما سوئٹزرلینڈ’ کا پتہ درج ہے لیکن نووارٹس نے بھی ان بیچز سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ڈریپ نے اپنی ریگولیٹری فورس اور صوبائی ڈرگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹس کو مارکیٹ میں سرویلنس بڑھانے کی ہدایت کی ہے اور فارمیسی مالکان، ڈسٹریبیوٹرز اور عوام کو حکم دیا ہے کہ ان بیچز کی موجودگی کی صورت میں فوری طور پر حکام کو مطلع کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *