حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان نیوز پوائنٹ
پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا مقدس اسلامی مقامات کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی انتظام کے تحت اجتماعی ردعمل دیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اس انتظام کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت کرنا نہیں بلکہ ممکنہ حملوں کی روک تھام، مشترکہ سلامتی کا تحفظ اور خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔اٹھارہ اکتوبر کو عرب میڈیا ادارے ’انڈیپنڈنٹ عربیہ‘ پر شائع ہونے والے انٹرویو میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کئی ماہ سے ایران اور خطے کے دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان رابطوں کا بنیادی مقصد تحمل کی حوصلہ افزائی، اختلافات میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کرنا ہے تاکہ جاری کشیدگی مزید نہ پھیلے۔انہوں نے مشرق وسطیٰ میں بار بار کشیدگی بڑھنے اور پھر کم ہونے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے سرے سے فوجی کارروائیوں کا آغاز خطے میں دیرپا استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اس کے علاقائی شراکت دار تنازع کو مزید ممالک تک پھیلنے اور فوجی محاذ آرائی میں شدت آنے سے روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔سعودی عرب پر حملوں کے بعد کیا پاکستان نے تہران کو براہ راست کوئی انتباہ دیا تھا؟ اس سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایسی کسی مخصوص بات چیت کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید۔تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی رابطوں کا محور کشیدگی میں کمی اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں ہیں۔ان کے مطابق خطے میں مسلسل محاذ آرائی کسی بھی متعلقہ ملک کے مفاد میں نہیں، اس لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں واقع مقدس مساجد کا تحفظ پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ان کے مطابق پاکستان اپنی موجودہ دفاعی ذمہ داریوں کے تحت سعودی عرب کو ضروری تعاون فراہم کر رہا ہے اور یہ تعاون جاری رہے گا۔انہوں نے فوجی رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی تعاون کی عملی تفصیلات بتانے سے گریز کیا. تاہم کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی سے متعلق ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ان کے یہ بیانات سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جن کے باعث خطے کی سلامتی اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان حملوں پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ عوامی سطح پر بھی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق اس ردعمل سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کو دی جانے والی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی انتظام کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے اسے اجتماعی دفاع اور ممکنہ جارحیت کی روک تھام کا ایک طریقہ قرار دیا۔ان کے مطابق اس انتظام کی بنیاد اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ حقِ دفاع پر ہے، جو کسی ملک کو مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی دفاع کا حق دیتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کے مقاصد جارحانہ ہیں۔ان کے بقول اس کا بنیادی ہدف مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانا، ممکنہ حملوں کی حوصلہ شکنی اور علاقائی امن کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جنگ کی صورت میں اتحاد کے تحت اجتماعی ردعمل دیا جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دفاعی انتظام کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے بھی پیش رفت ہوئی ہے، جس میں سیکریٹریٹ کا قیام اور تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام پر مشتمل اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تعاون پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دیرینہ دفاعی تعلقات اور تاریخی روابط کا تسلسل ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ نیا دفاعی انتظام تینوں ممالک کے پہلے سے موجود دوطرفہ دفاعی معاہدوں یا سلامتی سے متعلق شراکت داریوں کی جگہ نہیں لے گا۔ اس کا مقصد ان تعلقات کو ختم کرنے کے بجائے مشترکہ سلامتی کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔سعودی عرب پر حملوں کے ذمہ داروں اور ان کی معاونت کرنے والوں کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفاعی ذمہ داریوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ رکن ممالک اپنے شراکت داروں کو درپیش خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتے ہیں۔ان کے مطابق اجتماعی دفاعی نظام اسی لیے بنایا گیا ہے کہ ممکنہ حملہ آوروں کو یہ اندازہ ہو کہ کسی رکن ملک کو نشانہ بنانے کے نتائج صرف اسی ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔انہوں نے غیر ریاستی مسلح گروہوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے گروہ ریاستوں سے مختلف انداز میں کام کرتے ہیں اور انہیں روایتی سفارتی پیغامات کے ذریعے روکنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق ایسے حالات میں واضح دفاعی ضمانتیں ضروری ہیں تاکہ مسلح گروہ علاقائی عدم استحکام سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اور مزید حملوں کی حوصلہ شکنی ہو۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ فوجی محاذ آرائی کا دائرہ وسیع ہونے سے خطے کے ممالک کے مفادات متاثر ہوں گے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔ ان کے بیان میں دفاعی تیاری کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی انتظام میں مستقبل میں مزید ممالک کی شمولیت کے امکان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ اتحاد لازمی طور پر اپنے تین بانی ارکان تک محدود نہیں۔ان کے مطابق علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کے مقاصد سے اتفاق کرنے والے ممالک مستقبل میں اس نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔تاہم انہوں نے دوسرے ممالک کی ممکنہ شمولیت سے متعلق اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ رکنیت کے بارے میں فیصلے موجودہ رکن ممالک کی سیاسی اور اسٹریٹجک قیادت کرے گی۔انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اس انتظام کا مقصد کسی علاقائی فریق کے ساتھ محاذ آرائی پیدا کرنا نہیں بلکہ امن اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔انٹرویو میں بحری سلامتی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔یہ دونوں آبی راستے عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے اہم ہیں، جبکہ ان کے آس پاس کشیدگی بڑھنے سے تجارتی جہاز رانی اور خطے کی معیشت متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے بحری راستوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کثیر ملکی بحری سلامتی کے انتظامات میں حصہ لیتا رہا ہے۔ان کے مطابق علاقائی ممالک بھی مشترکہ سلامتی کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت کو زیادہ تسلیم کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *