جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کیساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے امریکی وزیر خارجہ

پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے واشنگٹن کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے بالکل اسی طرح جیسے بھارت کو ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے اور اس کی قیادت سے ملاقاتیں کرنے کی ضرورت ہے۔امریکی وزیر خارجہ اس وقت بھارت کے 3 روزہ دورے پر ہیں جہاں وہ بھارتی قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ان کا رواں سال بھارت کا یہ دوسرا سرکاری دورہ ہے۔بھارتی نیوز چینل نیٹ ورک 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کے خلاف ہے اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والوں کی مخالفت کرتا ہے۔دوران انٹرویو مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ بطور سینیٹر انہوں نے ایسا بل پیش کرنے کی تجویز دی تھی. جس کے تحت بھارت کو نشانہ بنانے کی صورت میں پاکستان کی امریکی سکیورٹی امداد بند کی جا سکتی تھی .تاہم اب بطور وزیر خارجہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟اس پر مارکو روبیو نے کہا کہ اب وہ سینیٹر نہیں بلکہ امریکی وزیر خارجہ ہیں اور انہیں امریکا کی خارجہ پالیسی چلانی ہے. جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے خواہ ان ممالک کے ساتھ بعض معاملات پر اختلافات ہی کیوں نہ ہوں۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جغرافیائی اعتبار سے واشنگٹن کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے بالکل اسی طرح جیسے بھارت کو ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے اور اس کی قیادت سے ملاقاتیں کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بھارت کے خدشات دور کرنے میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔مارکو روبیو کے مطابق پاکستان کے ساتھ روابط اور اس سے بات چیت کی صلاحیت امریکا کو ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی میں مدد دے سکتی ہے جن پر بھارت کو تحفظات ہیں۔انٹرویو کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق بھی گفتگو کی۔مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور توانائی کی ترسیل کی سطح مشرق وسطیٰ میں فروری 2026 میں تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے 80 سے 100 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران بھی اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور مذاکرات کی میزبانی کی جس سے ایک اہم امن معاہدے کی راہ ہموار ہوئی جسے بعد میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا نام دیا گیا۔تاہم 60 روزہ اسلام آباد معاہدے کی مدت 17 اگست 2026 کو کسی جامع معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی۔ سفارتی مشکلات کے باوجود پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی کوششیں تاحال جاری رکھے ہوئے ہے۔منگل کو مارکو روبیو کے بھارت کے دورے کے دوران پاکستانی آرمی چیف نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں ۔انٹرویو کے بعد متعدد بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے مایوسی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے روبیو کے بیان کو بھارتی میڈیا کے لیے شرمندگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے بھارتی انٹرویو لینے والے کے مؤقف کی تائید کرنے کے بجائے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت واضح کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *