پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل تہران میں کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں بلکہ خطے میں قیامِ امن اور صلح کا پیغام لے کر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن خطے میں امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور قیامِ امن کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں مکہ مشترکہ معاہدہ اور قطر کے ساتھ معاہدہ ہوا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے دفاعی معاہدوں میں وہ بطور وزیر دفاع خود بھی شریک تھے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم فیلڈ مارشل کی سفارتی کوششوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ خواجہ آصف نے انتخابات پر اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ انتخابات پر اعتراضات موجود ہیں، جس طرح انہیں 2018 کے انتخابات پر اعتراضات تھے۔ وزیر دفاع کے مطابق خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں اہم ہیں اور ان کوششوں کا اعتراف سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کیا جانا چاہیے۔
