پاکستان نیوز پوائنٹ
آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل بینچ مارک کے تحت آئندہ بجٹ کی تیاری شروع کردی گئی . جس میں ٹیکس اصلاحات، سپر ٹیکس کی شرح میں کمی اور ٹیکس اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے تفصیلات کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری شروع کر دی ہے اور اسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل بینچ مارک کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات، سپر ٹیکس کی شرح میں کمی اور ٹیکس اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔حکومت نے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں کم آمدنی والے اداروں کے لیے سپر ٹیکس کی حد بڑھانے اور شرح کم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت چار برسوں میں سپر ٹیکس کی شرح 5 فیصد تک لانے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے جبکہ پرائمری بیلنس سرپلس ہونے پر پانچویں سال سپر ٹیکس مکمل ختم کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں معاشی گروتھ اور سرمایہ کاری کے فروغ کو ترجیح دی جائے گی اور بے روزگاری اور غربت میں کمی کے لیے بھی اقدامات شامل ہوں گے۔بجلی کے ریٹس میں کمی، ٹیکس ریلیف اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قرض میں ریلیف پر بھی ورکنگ جاری ہے۔حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کے اسٹرکچر میں ضروری تبدیلیوں کی درخواست دی جائے گی .تاکہ پروگرام آن ٹریک رہتے ہوئے ریلیف فراہم کیا جا سکے۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تاکہ صنعتی ترقی اور اقتصادی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔نئی انڈسٹریل پالیسی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے کم آمدن والے اداروں کے لیے سپر ٹیکس کا تھریش ہولڈ 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے اور 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی حد بھی 1.5 ارب روپے تک بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
