اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق

پاکستان نیوز پوائنٹ
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اختلافات ہیں،اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر سیاست نہ کریں۔ عدالتی پٹیشن سے متعلق دستاویزات کی فراہمی کے لیے چار خطوط لکھے جا چکے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے چیمبر میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا کہ محمود خان اچکزئی ہمیں قبول نہیں،اپوزیشن ہمارے پاس آئے تو حکومت سے بات کروں گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ حکومت سے بات کریں گے اور بطور سہولت کار اپنا کردار ادا کریں گے تاہم ان کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے پر انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں،وزیراعظم نے اس حوالے سے فیصلوں کا اختیار انہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑوں سے مشاورت اور نصیحت لینا ضروری ہوتا ہے، اسی لیے وہ تمام معاملات آئین و قواعد کے مطابق دیکھ رہے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر سیاست نہ کریں۔ عدالتی پٹیشن سے متعلق دستاویزات کی فراہمی کے لیے چار خطوط لکھے جا چکے ہیں جبکہ آئندہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق باقاعدہ پراسیس کا آغاز کیا جائے گا۔ ایاز صادق نے کہا کہ اگر محمود خان اچکزئی انہیں اسپیکر نہیں مانتے تو وہ تحریک عدم اعتماد لے آئیں ،اگر کوئی انہیں قبول نہیں کرتا تو ان کا دل بہت بڑا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے اپوزیشن اراکین کے دستخطوں کی تصدیق ضروری ہوگی اور اس عمل میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات صرف اراکین پارلیمنٹ کے درمیان ہی کروا سکتے ہیں،اگر پارلیمنٹ کے علاوہ کوئی اور فریق مذاکرات کا حصہ بننا چاہتا ہے تو اسے حکومت سے رابطہ کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *