اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فرانس نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرلیا

پاکستان نیوز پوائنٹ
برطانیہ کینیڈا آسٹریلیا اور پرتگال کے بعد فرانس نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اقوام متحدہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطین کو اس کا جائز حق دیا جائے اور خطے میں امن قائم کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن قائم نہ کرنے کی اجتماعی ذمہ داری پوری عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ دہائیوں سے ادھورا ہے صدر میکرون نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا امن کے ایک نایاب موقع سے محض چند لمحوں کی دوری پر ہے اور اگر اب بھی عالمی طاقتوں نے عملی اقدامات نہ کیے تو یہ موقع ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جائے گا انہوں نے زور دیا کہ غزہ کی جنگ کو روکنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ خطے کے عوام کو امن اور انصاف میسر آ سکے فرانسیسی صدر کے مطابق طاقت کے بجائے قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے انہوں نے ان ممالک کا بھی ذکر کیا جنہوں نے فلسطین کو تسلیم کیا ہے ان میں اندورا آسٹریلیا بیلجیم لکسمبرگ مالٹا مراکش برطانیہ کینیڈا سان مارینو اور پرتگال شامل ہیں صدر میکرون نے اپنے بیان میں غزہ کی موجودہ صورتحال کو ناقابل جواز قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ حماس کے زیر حراست باقی اڑتالیس مغویوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے دوسری جانب حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اہم خط بھیجا ہے جس میں ساٹھ روزہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیل کے نصف یرغمالیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی گئی ہے ماہرین کے مطابق اس پیشکش سے خطے میں امن قائم کرنے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں یاد رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کینیڈا پرتگال اور آسٹریلیا بھی فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں اور ان ممالک نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی سمیت بنیادی شرائط پر عمل نہیں کیا جس کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر ہوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *