پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکا نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 روزہ عمومی لائسنس جاری کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی پیش رفت کے بعد کیا گیا۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق ایک عمومی لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری تعمیری مذاکرات کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت برقرار رکھنے اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا عزم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکا دنیا کو زیادہ محفوظ اور خوش حال بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق مذاکراتی فریم ورک کے تحت محکمہ خزانہ نے 60 روزہ عارضی عمومی لائسنس جاری کیا ہے، جس کے ذریعے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔یہ پیش رفت اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے ایران اور امریکا کے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ دونوں فریقوں نے مذاکرات کے دوران کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت، آئی اے ای اے انسپکٹرز کی ایران واپسی اور مستقبل کے جامع معاہدے کے لیے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا۔ایران سے مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان ”بہت اچھی پیش رفت“ ہوئی ہے اور حتمی معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ان کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز جلد ایران جا کر ابتدائی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے، جب کہ ایران کے منجمد اثاثوں اور اقتصادی تعاون سے متعلق امور پر بھی بات چیت جاری ہے۔جے ڈی وینس کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 78.71 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جب کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل کی قیمت 74.69 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہےخیال رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں پاکستان اور قطر کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات منعقد ہوئے۔ اس اجلاس کو ’لیک لوسرن سمٹ‘ کا نام دیا گیا، جس میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی۔مذاکرات میں خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے مختلف امور پر بات چیت کی گئی، جو مجموعی طور پر مثبت اور خوش گوار ماحول میں ہوئی۔مذاکرات کے بعد پاکستان اور قطر کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت بات چیت کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہوا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے اہم قدم ہے۔اس پیش رفت پر وزیراعظم شہباز شریف نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو سراہا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں امریکا اور ایران کی قیادت کی سنجیدگی کو قابلِ تعریف قرار دیا اور اس عمل میں کردار ادا کرنے پر سوئٹزرلینڈ سمیت تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا
