پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکا نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے واپس امریکہ میں ان کے مستقل اڈوں پر منتقل کر دیے ہیں۔امریکا نے اس انخلا کی کوئی وجہ نہیں بتائی، تاہم یہ اقدام 27 ستمبر کو پیش آنے والے ایک بڑے واقعہ کے بعد سامنے آیا ہے، جب گلوسٹرشائر میں واقع اس فضائی اڈے کے قریب تین ’مشکوک گاڑیوں‘ کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس کو طلب کیا گیا تھا۔اس واقعہ کے سلسلے میں ابتدائی طور پر پانچ افراد کو دہشت گردی سے متعلق الزامات کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا، بعد ازاں ایک چھٹے شخص، جو برطانوی۔ایرانی شہری بتایا جاتا ہے، کو بھی گرفتار کرکے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس ذرائع نے اس تاثر کی تردید نہیں کی کہ واشنگٹن کا یہ فیصلہ آر اے ایف فیئر فورڈ کے واقعہ کے ردعمل میں کیا گیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سیای نہیں بلکہ فوجی نوعیت کا تھا، جسے عملیاتی سطح پر امریکی فوج نے کیا اور اپنے برطانوی ہم منصبوں کو اس سے آگاہ کیا۔برطانیہ کی وزارت دفاع نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ایئربیس واقعہ کے چند روز بعد برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا تھا کہ اس واقعہ میں ایران کے کردار کے واضح اشارے موجود ہیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔تہران نے برطانوی اڈے پر ہونے والے واقعہ کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔
