پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران کی سکیورٹی فورسز نے 2023 میں امن کا نوبیل انعام جیتنے والی اور خواتین کے حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو مشہد میں دیگر کارکنان کے ہمراہ پُرتشدد طریقے سے حراست میں لے لیا۔ نرگس محمدی ایران میں کئی بار گرفتار ہو چکی ہیں اور انہیں مجموعی طور پر 36 برس قید اور 154 کوڑے کی سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔نرگس فاؤنڈیشن کے مطابق یہ تازہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب نرگس نے وکیل خسرو علی کُردی کی میموریل تقریب میں شرکت کی، جس میں متعدد دیگر کارکنان بھی موجود تھے اور انھیں بھی حراست میں لیا گیا۔ نوبیل کمیٹی نے ایرانی حکام سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ وہ نرگس محمدی کی حفاظت اور تکریم کو یقینی بنائیں اور انہیں بغیر کسی شرائط کے رہا کریں۔نرگس محمدی نے ایران میں خواتین کے حقوق، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے لیے طویل عرصے تک جدوجہد کی ہے اور حالیہ دنوں میں انہوں نے حکومت کی طرف سے مسلسل نگرانی، گرفتاری اور دھمکیوں کے خطرے کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔ نوبیل کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے ان پر مسلسل دباؤ ڈالنے سے ان کی جان اور تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
