پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی تیاریوں کے باعث تائیوان کو 14 بلین ڈالرز کے ہتھیاروں کی فروخت عارضی طور پر روک دی۔امریکا کے قائم مقام نیوی سیکریٹری ہنگ کاؤ نے سینیٹ کی دفاعی ذیلی کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے تائیوان کو 14 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت فی الحال روک دی ہے تاکہ ایران کے ساتھ جنگی صورتحال کے لیے ضروری اسلحہ محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ اس کے پاس “ایپک فیوری” آپریشن کے لیے وافر مقدار میں اسلحہ موجود ہو، تاہم غیر ملکی فوجی فروخت کا عمل بعد میں دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں بھی تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اہم موضوع رہی تھی۔قائم مقام نیوی سیکریٹری کے مطابق اس معاہدے سے متعلق حتمی فیصلہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کریں گے۔امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم دونوں ممالک اب تک کسی مستقل امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
