ہرمز سے تیل اور جنگی اخراجات کا تنازع ایران نے امریکا کے دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا

پاکستان نیوز پوائنٹ
ایران نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف مزید حملے کی صورت میں تہران کا جواب پہلے سے زیادہ تیز، شدید اور تکلیف دہ ہوگا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کو دیر ہونے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے قواعد تبدیل ہو چکے ہیں، ایران اس وقت ہمہ گیر جنگ لڑ رہا ہے. امریکی اڈوں پر شدید حملوں کے بعد دشمن ممالک کے رہنما مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی پابندیوں اور تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کے باعث ایران کو درپیش معاشی مشکلات کے حل کے لیے ایرانی حکومت نے اقدامات تیز کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ فوجی محاذ کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت اور عوام کے روزگار کا تحفظ بھی اہم ترجیح ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو اپنے خطاب میں کہا کہ امریکی حکام کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے اصول تبدیل ہوچکے ہیں۔ اگر امریکا نے اب تک اس حقیقت کو نہیں سمجھا تو اسے بہت دیر ہونے سے پہلے اس کا ادراک کرلینا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سیکیورٹی یا اس کے مفادات اور اثاثوں کے خلاف کسی بھی خلاف ورزی کا جواب پہلے سے زیادہ تیزی، شدت اور تکلیف دہ انداز میں دیا جائے گا۔قالیباف نے مزید کہا کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں کو متناسب ردعمل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے کیوں کہ متناسب جوابی کارروائیوں کا دور ختم ہوچکا ہے اور بدلتے حالات کے ساتھ ایران نے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کردی ہے جب کہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی اڈوں سمیت مخالف اہداف کو پہنچنے والے نقصانات صرف ابتدا تھے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی حکام کی جانب سے میدانِ جنگ سے متعلق جاری کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز پر بھی الزام عائد کیا کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز پر کیے جانے والے خوفناک حملوں کے باعث مایوسی کا شکار ہیں اور اپنے بے معنی اور کھوکھلے نعروں کے ذریعے صورتِ حال کو اپنے حق میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا یہ بیان ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جس کے بعد خطے میں مزید فوجی تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ایرانی مؤقف کے مطابق تہران اب بھی خطے کے پڑوسی ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آبنائے ہرمز میں تیل کی آمدورفت روک سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی گزرتی تھی۔یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو 6 ماہ گزر چکے ہیں۔ جون میں طے پانے والا ابتدائی جنگ بندی معاہدہ ختم ہو چکا ہے جب کہ جنگ بندی اور امن عمل بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی اب تک نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔جولائی کے بیشتر حصے میں فوجی کارروائیاں رکنے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جوابی حملے شروع ہوگئے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ہفتے کو امریکی فوج نے 3 ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحریہ کے 2 جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کے جواب میں کی گئی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ پاسداران انقلاب کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر ایران نے 2 امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو امریکا اس کے 3 جہازوں کو نشانہ بنا کر مزید معاشی نقصان پہنچائے گادوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکی فوجی بحری جہازوں کے خلاف حملے مزید تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔ پاسداران انقلاب نے بعد میں دعویٰ کیا کہ اس نے ان 3 آئل ٹینکرز کے علاوہ دیگر علاقوں میں امریکا سے منسلک 3 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔پاسداران انقلاب کی بحریہ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کے غیر مجاز راستوں سے گزرنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کی صورت میں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔نیم سرکاری ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق جزیرہ خارگ کے قریب لنگر انداز ایک ٹینکر کو 4 امریکی میزائل لگے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ٹینکر کے عملے کو وہاں سے منتقل کیا جا رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی کہا کہ اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران کو درپیش چیلنجز صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں بلکہ ملکی معیشت، مہنگائی، روزگار اور مارکیٹ کے مسائل پر بھی فوری توجہ دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق فوجی معاملات کے ساتھ معاشی مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کرنسی کی قدر میں تیزی سے اتار چڑھاؤ، مہنگائی، بے روزگاری اور مارکیٹ کے انتظام کو بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام مشکلات برداشت کر سکتے ہیں لیکن بدانتظامی اور عملی اقدامات کی کمی برداشت نہیں کریں گے۔ایران کے وزیر معیشت علی مدنی زادہ نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت امریکی معاشی دباؤ کا جواب اقتصادی اصلاحات کے ذریعے دے گی۔انہوں نے کہا کہ امریکا اقتصادی دباؤ اور تنہائی، مالی روابط ختم کرنے اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے ذریعے ایرانی عوام کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے. تاہم ایرانی معیشت میں اصلاحات کی ذمہ داری امریکی محکمہ خزانہ کی نہیں بلکہ ایران کی حکومت اور عوام کی ہے۔ایران کی وزارت معیشت کے نائب وزیر مرتضیٰ زمانیان نے بھی اتوار کو کہا کہ وزارت کا ’’اقتصادی جنگ ہیڈکوارٹر‘‘ جنگ کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کر رہا ہے۔ایران اوپیک کا تیسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ جنگ سے قبل ایران اپنی خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات جزیرہ خارگ کے ذریعے کرتا تھا تاہم اپریل کے وسط میں ایرانی تیل کی برآمدات کے خلاف امریکی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ایرانی وزیر تیل محسن پاک نژاد نے اتوار کو سرکاری ٹی وی کو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جزیرہ خارگ کو تقریباً 550 مرتبہ نشانہ بنایا گیا تاہم جزیرہ اب بھی کام کر رہا ہےدوسری جانب تسنیم نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب نے شمالی عراق کے شہر اربیل کے اوپر ایک امریکی نگرانی کرنے والے غبارے کو بھی مار گرایا ہے۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق یہ کارروائی خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور ابتدائی وارننگ کے نظام کو ختم کرنے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *