پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے، اور حکمتِ عملی ’’ہتھوڑا چلانے‘‘ سے ’’آہستہ آہستہ گلا گھونٹنے‘‘ کی طرف منتقل کر دی ہےسی این این کی رپورٹ کے مطابق کئی ہفتوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے مثبت پیش رفت اپنی خواہش اور دباؤ کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر انھیں اس میں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔صدر ٹرمپ نے اب ایک نیا طریقۂ کار اختیار کر لیا ہے، ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے انتظامیہ کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں کو ایران کے ساتھ اپنی بات چیت روکنے کی ہدایت کی ہے۔وائٹ ہاؤس اب فوری طور پر ایران کو زور سے کچلنے کی بہ جائے وقت کے ساتھ اس پر دباؤ بڑھا کر اسے گھیرنے کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے، واضح رہے کہ صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ مذاکرات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں اور نیا معاہدہ بس ہونے ہی والا ہے، لیکن اب انھوں نے اچانک کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی سفارت کاری نہیں ہو رہی ہےذرائع کے مطابق پہلی یہ حکمت عملی تھی کہ ایران پر جلد از جلد ’’ہتھوڑا‘‘ چلا دیا جائے، لیکن اب یہ حکمت عملی ہے کہ اس کا دھیرے دھیرے گلا گھونٹا جائے۔انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات یا بات چیت ہو رہی ہے اور نہ ہی طے شدہ ہے۔ بحری ناکہ بندی پوری طرح نافذ اور مؤثر ہے۔ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور اس میں آمدورفت جاری ہے۔ پانی میں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انھیں دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔‘‘تاہم حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک اب بھی نہایت محدود ہے، اور اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی پروجیکٹائلز سے حملے بدستور ہو رہے ہیں۔
