جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ پر سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس

پاکستان نیوز پوائنٹ
سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر ہو گئیں،ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کاانعقاد کیا گیا۔سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ پر 9 ججزفل کورٹ ریفرنس میں بذریعہ ویڈیولنک شریک ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کا فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جسٹس مسرت ہلالی نے جرات مندانہ طریقے سے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیئے۔جسٹس مسرت ہلالی کی قانون کے شعبے میں خدمات ناقابل فراموش ہیں،جسٹس مسرت ہلالی اہم سرکاری عہدوں بھی رہیں،بنوں جیسے علاقوں میں بطور جج فرائض سرانجام دیئے.جہاں اس وقت جج شام کے بعد باہر نہیں نکل سکتے تھے۔جب چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ بنا تو جسٹس مسرت ہلالی کو پشاور بلایا،وہ ناراض تھیں کہ پشاور واپس کیوں بلایا،ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔فل کورٹ ریفرنس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اٹارنی جنرل کا پیغام پڑھ کر سنایا۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس تھیں،انہوں نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا،فوجی عدالتوں کا فیصلہ انٹرا کورٹ اپیل میں معطل کرنے کی مخالفت کی۔فوجی عدالتوں کے مجرمان کو سپریم کورٹ نے اپیل کا حق دینے کی ہدایات دیں،جسٹس مسرت ہلالی نے قرار دیا کہ تنسیخ نکاح کا دعویٰ خلع میں نہیں بدلا جا سکتا۔صدر سپریم کورٹ بارنے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کردی . صدر سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ ایجنڈے پر اتفاق کرنا چاہیے،ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔آئین و قانون کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کی توثیق کرتے ہیں،نئے صوبے گورننس، معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کا باعث بنیں گے،تمام حل طلب معاملات پر با معنی اور سنجیدہ مذاکرات ہونے چاہیں۔صدر سپریم کورٹ بار نے مزید کہا کہ جسٹس مسرت ہلالی کا عدالتی سفر آج اپنے اختتام کو پہنچا،دعا گو ہوں کہ اللہ پاک جج صاحبہ کو صحت اور مزید کامیابیاں عطا کرے.صدر مملکت سے درخواست کرتے ہیں کہ ججز تقرریوں کی منظوری میں مزید تاخیر نہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *