حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان

پاکستان نیوز پوائنٹ
یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی (نیول بلاکیڈ) کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق حوثیوں کے عسکری ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے خلاف “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی کے تحت بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔بیان کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن پر عائد کیے گئے “غیر منصفانہ اور ظالمانہ محاصرے” کے جواب میں کیا گیا ہے۔اس سے قبل اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایران نے حوثیوں پر زور دیا تھا کہ اگر امریکہ ایرانی توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے تو وہ بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کو بند کر دیں۔واضح رہے کہ باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے. جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تیل اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔تاحال سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ماہرین کے مطابق اگر باب المندب کی آبنائے مکمل طور پر بند کر دی گئی تو عالمی تیل کی رسد میں تقریباً 7 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے، کیونکہ سعودی عرب کی زیادہ تر تیل برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، شپنگ اخراجات میں تیزی اور سپلائی چین میں شدید خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی جنگ کے باعث پہلے ہی عالمی تیل کی سپلائی تقریباً 10 فیصد متاثر ہو چکی ہے، ایسے میں باب المندب کی ممکنہ بندش توانائی کی عالمی منڈی کو مزید شدید بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔حوثیوں کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے یہ اشارے ملے تھے کہ وہ حملوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کو روکنے اور گزشتہ ماہ طے پانے والے عارضی معاہدے کو بچانے کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں.تاہم حوثیوں کے تازہ اقدام نے ان سفارتی امیدوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *