پاکستان نیوز پوائنٹ
تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خبر ہے کہ بجٹ میں ان پر ٹیکس بوجھ مزید کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔وفاقی بجٹ برائے سال 27-2026 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے اور اب اس پر بحث جاری ہے، تاہم بجٹ سے متعلق تجاویز کا سلسلہ جاری ہے۔سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے پیش کردہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو دیا جانیوالا مجوزہ ٹیکس ریلیف ناکافی قرار دیتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ مزید کم کرنے کی تجاویز دی ہیں۔سابق وفاقی وزیر نے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہانہ 15 لاکھ سے کم آمدنی والے افراد پر ٹیکسوں کا زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا۔ بھاری ٹیکس سے ان افراد کو بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے میں پہلے ہی مشکلات ہیں،۔گوہر اعجاز نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی وجہ سے بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے جب کہ بھاری ٹیکسز کی وجہ سے ہی وہ اپنے بچوں کی تعلیم، صحت کی سہولت دینے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں پر مزید ریلیف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے صرف 3 سلیب ہونے چاہئیں۔پہلا ماہانہ ایک سے پانچ لاکھ روپے آمدن پر 5 فیصد ٹیکس لگایا جائے۔ دوسرا ماہانہ 5 سے 10 لاکھ روپے آمدن پر 10 فیصد جب کہ ماہانہ 15 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 20 فیصد ٹیکس لگایا جائے۔سابق وفاقی وزیر نے اپنی تجاویز میں یہ بھی کہا کہ ملک کے متوسط طبقے کو ٹیکس ریلیف فراہم کر کے تنخواہ دار طبقے کو خرچ کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر تنخواہ دار طبقہ خرچ کرے گا تو حکومت کو ٹیکس ملے گا۔
