پاکستان نیوز پوائنٹ
سڈنی حملے میں ملوث افراد کا تعلق بھارت سے ثابت ہوگیا۔ نوید اکرم کے ایک قریبی ساتھی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ حملے کے ملزمان بھارتی پس منظر رکھتے ہیں۔ آسٹریلوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ ملزمان کا تعلق بھارت سے ہے، جبکہ نوید اکرم کی والدہ اٹلی سے تعلق رکھتی ہیں۔رپورٹس کے مطابق پاکستان پر الزامات عائد کرنے والا بھارت خود اس معاملے میں گھرتا دکھائی دیتا ہے۔ آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ سڈنی حملہ آوروں کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا امکان زیرِ تفتیش ہے۔ پولیس کو حملہ آوروں کی گاڑی سے داعش کا سیاہ پرچم بھی ملا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ باپ بیٹے نے گزشتہ ماہ فلپائن کا سفر کیا تھا.جس کی نوعیت جاننے کے لیے پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ماضی میں بھی آسٹریلوی شہریوں کے فلپائن میں سرگرم دہشت گرد عناصر سے روابط سامنے آتے رہے ہیں۔ فلپائن میں فعال داعش کی شاخ کو آسٹریلیا نے 2017 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔سڈنی حملے کے ملزمان سے متعلق مزید تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں کے پاکستان سے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا، نہ ہی پاکستان میں ساجد اکرم کے کسی خاندانی نیٹ ورک کے شواہد ملے ہیں۔ پاکستانی نژاد آسٹریلوی کمیونٹی بھی دونوں افراد کی شناخت سے لاعلم نکلی۔ آسٹریلوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ باپ اور بیٹا دونوں آسٹریلوی شہری ہیں۔آسٹریلوی حکام کے مطابق ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا آئے تھے اور 2001 میں ان کا ویزا پارٹنر ویزے میں تبدیل ہوگیا۔ نوید اکرم آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا اور وہیں پرورش پائی۔ حملے کے چند ہی منٹ بعد پاکستان مخالف ایک منظم مہم شروع کردی گئی اور نوید اکرم نام کے ایک نوجوان کو واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
