ریاست اور خیبرپختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں دہشتگردی ہے خواجہ آصف نے اعداد و شمار سامنے رکھ دیے

پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل تک پی ٹی آئی کے رہنما مولانا کو ’مولانا‘ کہنے کو گناہ قرار دیتے تھے، لیکن آج وہی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنی خوش قسمتی قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اتحاد اور اختلاف اصولوں کی بنیاد پر ہونے چاہییں، ذاتی مفادات اور اقتدار کی خواہش پر نہیںپریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی رہنما اپنے بیانات اور مؤقف بدل کر اپنی ساکھ اور وقار کو خود نقصان پہنچاتے ہیں۔ کل جن لوگوں کو گالیاں دی جاتی تھیں، آج ان سے محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی اختلافات اور اتحاد دنیا بھر میں ہوتے ہیں، لیکن اصولوں کی بنیاد پر مؤقف میں تبدیلی اور ذاتی مفادات کے لیے سیاسی قلابازیاں لگانے میں فرق ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ان کے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ذاتی تعلقات اچھے ہیں، تاہم وہ اس معاملے کو ذاتی تعلق کے بجائے سیاسی برادری کے طرزِ عمل کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول سیاست دانوں کو اپنے ماضی کے بیانات اور آج کے مؤقف کا جواب دینا چاہیے، کیونکہ میڈیا اور عوام ان کے سابقہ بیانات یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے سیاست دانوں سے سوال کرنا ان کا حق ہے اور یہی سیاسی احتساب کا اہم ذریعہ ہے۔پاکستان میں حالیہ سفارتی اور دیگر اہم اقدامات میں وزیراعظم شہباز شریف کا کردار اپنی جگہ اہم ہے، تاہم ان کے بقول ان اقدامات کی قیادت اور پیشرفت میں فیلڈ مارشل کا مرکزی کردار ہے۔انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں 3 مرتبہ منتخب وزیراعظم ہونے کے باوجود اقتدار سے ہٹایا گیا، وہ جیل گئے، ان کی بیٹی بھی قید میں گئی اور ان کی اہلیہ کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ خود قید میں تھے، لیکن انہوں نے اپنی عزت اور وقار کا سودا نہیں کیا۔پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اپوزیشن کو مسلسل سیاسی معاملات میں مصروف رکھا گیا، لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں حالات سب کے سامنے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ اللہ کے فضل سے صوبے میں حالات بہتر ہوں گے۔گورنر راج کے معاملے پر خواجہ آصف نے کہا کہ اس کے نفاذ پر پارلیمنٹ غور کر سکتی ہے اور اسے ختم بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کی ضمانت ہو۔مسلم لیگ ن چاہتی تھی کہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں انتخابات کا اعلان کر دیا جائے اور ستمبر تک انتخابی عمل مکمل ہو، لیکن اس وقت اتحادی جماعتوں کا مؤقف تھا کہ اسمبلیوں کی باقی مدت پوری کی جائے۔ خواجہ آصف کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی اس وقت ان کی اتحادی تھی اور حکومت میں اس کے پاس وزارتِ مواصلات سمیت اہم ذمہ داریاں تھیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت نے حکومت کی تبدیلی کے بعد اپنے لیے بھی کوئی فائدہ یا اقتدار میں حصہ ملنے کی امید لگائی تھی تو یہ الگ معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب بھی انتخابات کا موقع آئے گا تو مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتیں اپنی قسمت آزما سکیں گی۔ ان کے بقول سیاسی اتحاد سے انہیں کوئی پریشانی نہیں، تاہم وہ عوام کے سامنے سیاسی رہنماؤں کے ماضی اور حال کے بیانات کا فرق رکھنا چاہتے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی ساکھ کے لیے ضروری ہے کہ ان کے مؤقف میں اصولی تسلسل ہو۔ جب رہنما کل کسی کے خلاف سخت زبان استعمال کریں اور آج اسی کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو عوام ان سے سوال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاست دانوں کا اصل احتساب یہی ہے کہ ان سے پوچھا جائے کہ وہ کل کیا کہتے تھے اور آج کیا کہہ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *