پاکستان نیوز پوائنٹ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرحِ سود کم کرتے ہوئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت شرحِ سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا. جس کے فیصلے کے تحت نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی مانیٹری پالیسی کے تحت شرحِ سود 10اعشاریہ 5 فیصد پر آگئی۔مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں 0.5فیصد کمی کا اعلان کردیا۔ ملک بھر میں شرحِ سود 11فیصد سے کم ہو کر 10.5فیصد ہوگئی۔ اس سے قبل مسلسل 3اجلاسوں میں اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود کو 11فیصد پر مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ شرحِ سود کم کرنے کے باعث گھریلو قرضے، آٹو فنانسنگ اور پرسنل لون لینے والے افراد کیلئے شرحِ سود کم ہوجائے گی اور بینک کو نسبتاً کم ادائیگی کرنا ہوگی جبکہ کاروباری برادری کیلئے ورکنگ کیپٹل اور کاروباری قرض بھی سستا ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ایسی صنعت جس نے اپنے کاروبار کے آغاز یا توسیع کیلئے کسی بھی بینک سے 5کروڑ روپے کا قرض لیا ہو. اس کے سالانہ مالیاتی اخراجات میں 25 لاکھ روپے تک کمی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
