فائروال کے ہارڈوئیر کی خریداری میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگی کاانکشاف ہواہے

پاکستان نیوز پوائنٹ
فائروال کے ہارڈوئیر کی خریداری میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگی کاانکشاف ہواہے ،16کروڑ روپے کی بولی مسترد کرکے 20کروڑ50لاکھ روپے کی بولی منظورکی گئی،آڈٹ رپورٹ کے مطابق این ٹی سی نے جو اعتراضات لگاکر بولی مسترد کی وہ درست نہیں تھے سب سے کم بولی مسترد کرنے سے 4کروڑ روپے کا نقصان ہوا،این ٹی سی آڈٹ حکام کو مطمئن نہ کرسکا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق فائروال کے لیے سامان کی خریداری میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کو انکشاف ہواہے ۔آڈٹ رپورٹ نے کروڑوں روپے مالیت کے فائروال ہارڈوئیرکے حصول کے عمل پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن کے انتظامی کنٹرول کے ماتحت کام کرنیوالے ادارے نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن(NTC) نے فائروال سے متعلق بولیاں مانگیں جو16اگست2023 کو اوپن کی گئیں۔ فائروال ہارڈوئیر کیلئے تین کمپنیوں نے قیمت فراہم کی۔ ایم ایس خزانہ نامی کمپنی نے سب سے کم 16.48کروڑ روپے کی بولی دی اسکے بعد ایم ایس Pronetنامی کمپنی نے 20.5کروڑروپے کی بولی لگائی۔ تیسرے نمبر پر ایم ایس Inboxنامی کمپنی نے 32.4کروڑ کی بولی دی۔آڈٹ حکام کے مطابق ٹینڈر دستاویزات کے جائزے سے پتہ چلا کہ سب سے کم بولی دینے والی کمپنی ایم ایس خزانہ نے18اگست2023 کو ایم میل کرکے بتایا کہ انکی bidمیں حساب کی غلطی ہے تاہم آڈٹ حکام کو پتہ چلا کہ ایسی کوئی غلطی نہیں تھی۔این ٹی سی نے ایم ایس Pronetنامی کمپنی کی20.5کروڑروپے مالیت کی دوسری کم بولی منظور کرلی اور ایم ایس خزانہ کمپنی کی سیکیورٹی ضبط کرنے کی سفارش کردی۔آڈٹ حکام کے مطابق فائروال ہارڈوئیر کیلئےNTC پہلی کمپنی ایم ایس خزانہ کی33لاکھ مالیت کی سیکیورٹی ضبط کرنے میں ناکام رہی۔سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کی سیکیورٹی گارنٹی ضبط کرنے کے فیصلے کے خلاف کمپنی عدالت میں چلی گئی ۔ آڈٹ کاکہناہے کہ منظور شدہ بولی کم ترین بولی سے 25فیصد یعنی4کروڑ روپے زیادہ تھی،جوNTCکی جانب سے مسابقتی نرخ یقینی بنانے کے عمل میں ناکامی کی عکاس ہے۔آڈٹ حکام کے مطابق NTCکو دوسری کمپنی کی بولی منظور کرنے سے قبل مارکیٹ کے جائزے کے ذریعے قیمت موزوں ہونے کی شرائط کو پورا کرنا چاہئے تھا۔اسکے علاوہ بولی دینے والی کمپنیوں کے مابین ملی بھگت یاcollusiveپریکٹسزکو بھی دیکھنا چاہئے تھا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایسا کرنا پیپرا کی15فروری2021 کی وضاحت کے تحت ضروری تھا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق فائروال ہارڈوئیر کا حصول بے قاعدہ تھا۔آڈٹ حکام اور این ٹی سی کے درمیان اس حوالے سے اجلاس ہوئے جس میں این ٹی سی حکام آڈٹ کومطمئن نہ کرسکے آڈٹ نے ڈی اے سی کے فیصلوں پر عمل درآمدکرنے کی ہدایت کردی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *