پاکستان نیوز پوائنٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کی دھمکی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید 2 فیصد بڑھ گئیںعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی منڈی میں آج دن کے آغاز سے ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا جو دن کے اختتام تک مسلسل اونچے اُڑان اڑتا رہا۔صبح برینٹ خام تیل کی قیمت 2.4 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی تقریباً 2.5 فیصد بڑھ کر 86 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔بعد ازاں دن اختتام پر عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل تقریباً 94.06 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 87.67 ڈالر فی بیرل پر ہوا۔ آنے والے کل میں بھی اضافے کے اسی رجحان کی توقع کی جا رہی ہے۔تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے حوالے سے تعطل برقرار ہے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول سے کہیں کم ہوچکی ہے۔گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک کچل دینے والی اقتصادی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔انھوں نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے یا اسے کسی بھی قسم کا سہارا فراہم کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے تیل کی اسمگلنگ، مالیاتی منتقلی، کرنسی ایکسچینج ہاؤسز، جہازوں کی رجسٹریشن اور ایران سے منسلک فرنٹ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا بھی عندیہ دیا تھاخیال رہے کہ عالمی توانائی منڈی کے لیے سب سے بڑا خدشہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش ہے جو خلیج فارس سے عالمی منڈی تک تیل کی ترسیل کا انتہائی اہم آبی راستہ ہے۔جنگ کے دوران اس راستے سے تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے. جس نے خام تیل کے ساتھ ساتھ ریفائنڈ مصنوعات کے عالمی ذخائر پر بھی دباؤ بڑھا دیا اور قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔تیل اور گیس کی بلند قیمتوں کے اثرات پہلے ہی عالمی معیشت پر نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ برطانیہ میں جولائی کے دوران سالانہ افراطِ زر کی شرح 2.9 فیصد ہوگئی جو جون میں 2.6 فیصد تھی۔ توانائی کے بلوں میں اضافے نے مہنگائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔اسی طرح یورو زون میں بھی جولائی کی سالانہ افراطِ زر کی شرح 2.9 فیصد رہی جو جون میں 2.8 فیصد تھی۔ یورو زون میں توانائی کی قیمتوں کی سالانہ شرحِ اضافہ جولائی میں 10 فیصد تک پہنچ گئی۔
