پاکستان نیوز پوائنٹ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو “بہت کم چھوڑ کر پورے ایران کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔”امریکی نیوز نیٹ ورک کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع ہفتوں نہیں بلکہ دنوں میں ختم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینی فوج بھیجی جائے یا نہیں، یہ خارج از امکان نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو شہری تنصیبات، پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور ایران کے لیے حالات “جہنم” جیسے ہو جائیں گے۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے کچھ عہدیدار مذاکرات کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ جلد کوئی معاہدہ ہو جائے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا سخت اقدامات پر غور کرے گا، جن میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا اور تیل پر کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے۔واضح رہے کہ یہ بیان اس 48 گھنٹے کی مہلت ختم ہونے سے قبل سامنے آیا ہے جو ٹرمپ نے ایران کو دی تھی، جبکہ آبنائے ہرمز فروری کے آخر سے جاری کشیدگی کے باعث بند ہے۔ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں اور کسی بڑے تصادم کے خدشات کو تقویت دے رہے ہیں۔
