پاکستان نیوز پوائنٹ
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 48 گھنٹے کی سخت ڈیڈ لائن کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے توانائی کے عالمی بحران کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت 2.35 فیصد اضافے کے ساتھ 114.16 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ عالمی معیار برینٹ کروڈ 1.72 فیصد بڑھ کر 110.91 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں کے باعث اس اہم سمندری گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ راستہ خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی کے ذریعے ہوتی تھی۔ماہرین کے مطابق اس بند نے تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل، جیٹ فیول، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
