پاکستان نیوز پوائنٹ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا اکتیسواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں شفافیت، تعلیم، ٹیکنالوجی، صحت، انفراسٹرکچر، نوجوانوں کی ترقی، روزگار اور عوامی سہولت سے متعلق اہم اور تاریخی فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سرکاری محکموں میں کرپشن کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پنجاب میں تین ماہ کے اندر ہر محکمے کی مکمل انکوائری کی جائے گی، کرپشن کو صفر سطح پر لایا جائے گا اور جوابدہی یقینی بنائی جائے گی۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ ایک پائی کی کرپشن بھی برداشت نہیں کی جائے گی اور سرکاری خزانہ عوام کی امانت ہے۔ پنجاب میں ڈیجیٹل انقلاب کے ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے راولپنڈی میں صوبے کا دوسرا آئی ٹی سٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایک سال میں 2300 نوجوانوں کو سکل پروفیشنلز بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ کابینہ نے لاہور میں جدید ٹریفک لائٹس، زیبرا کراسنگ اور سڑکوں کی مرمت کے منصوبوں کی منظوری دی، جبکہ غیر قانونی لائٹس سے ٹریفک روکنے والے وارڈنز کے لیے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا۔ تعلیم کے شعبے میں شفافیت کے لیے پنجاب کی پہلی خودمختار امتحانی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ ہیڈ ٹیچرز کے الاؤنس میں اضافہ کرتے ہوئے ماہانہ الاؤنس پانچ ہزار سے بڑھا کر دس ہزار روپے کر دیا گیا۔ کابینہ نے لائیو اسٹاک کو کمپنی کی طرز پر چلانے اور مویشیوں کی برآمدات کے فروغ کی منظوری دی۔ گندم کاشت کا ہدف بروقت مکمل کرنے پر وزیر زراعت اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی گئی۔ صحت کے شعبے میں اہم فیصلوں کے تحت ہولی فیملی ہسپتال فیصل آباد کے لیے طبی آلات کی خریداری، مری میں 100 بیڈز مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کو جنرل ہسپتال میں تبدیل کرنے، اور گوجرانوالہ میں مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں مختلف محکموں میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے عہدوں پر تقرریوں، نئی سڑکوں کی تعمیر، لائیو اسٹاک ای کریڈٹ اسکیم، ضلع قصور کی ترقیاتی اسکیموں اور انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔
