چین نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز امریکا سے چھین لیا

پاکستان نیوز پوائنٹ
چین نے امریکا سے دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز نئی مشین کے ساتھ چھین لیا ہے۔لائن شائن نامی سپر کمپیوٹر نے دنیا بھر کے سپر کمپیوٹرز کی درجہ بندی ٹاپ 500 میں نمبرون پوزیشن حاصل کی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ چین نے یہ سپر کمپیوٹر مقامی چپس اور سافٹ وئیر استعمال کرکے تیار کیا ہے۔اس سے قبل آخری بار چین نے یہ اعزاز 2017 میں حاصل کیا تھا مگر جب سپر کمپیوٹرز کو کسی حد تک غیر ملکی پرزہ جات سے تیار کیا جاتا تھا۔اب امریکا کی سخت پابندیوں کے باوجود چین نے مقامی طور پر چپس اور سافٹ وئیر تیار کیے جن کو سپر کمپیوٹر کے لیے استعمال کیا گیا۔لائن شائن کو چین کے ایسے قومی پراجیکٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہےجس کے ذریعے دنیا کے سامنے ثابت کیا جا رہا ہے کہ امریکی ہارڈ وئیر کے بغیر بھی چین ٹیکنالوجی کی دنیا میں آگے بڑھ سکتا ہے۔اس سپر کمپیوٹر کو ہواوے چپس اور مقامی طور پر تیار کردہ نیٹ ورکنگ آلات اور سافٹ وئیر کے ذریعے تیار کیا گیا۔عام کمپیوٹرز کے برعکس سپر کمپیوٹرز ہزاروں انٹرلنک پراسیسرز پر مشتمل ہوتے ہیں اور انہیں پیچیدہ حساب کتاب کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے تاکہ مختلف شعبوں میں سائنسی پیشرفت کو ممکن بنایا جاسکے۔اس سے قبل امریکی سپر کمپیوٹر El Captain کو دنیا کا سب سے طاقتور سپر کمپیوٹر قرار دیا جاتا تھا اور اس نے یہ پوزیشن 18 ماہ تک برقرار رکھی۔اس فہرست میں سپر کمپیوٹرز کی درجہ بندی کمپیوٹنگ پاور exaflops کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور چینی سپر کمپیوٹر فی سیکنڈ 2.2 exaflops کی طاقت رکھتا ہے، جبکہ امریکی کمپیوٹر میں یہ صلاحیت 1.8 فی سیکنڈ ہے۔لائن شائن میں موجود چپس امریکی مشینوں جتنی بہتر تو نہیں مگر انہیں زیادہ بہتر انداز سے اکٹھا کیا گیا اور یہ مغربی مشینوں سے زیادہ پاور استعمال کرتا ہے۔یہ سپر کمپیوٹر 42 میگا واٹس بجلی استعمال کرتا ہے جو امریکی کمپیوٹر سے 40 فیصد زیادہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *