گلگت بلتستان انتخابات دن بھر ووٹنگ کے بعد پولنگ کا وقت ختم گنتی شروع

پاکستان نیوز پوائنٹ
گلگت بلتستان اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل اتوار کو شام پانچ بجے مکمل ہوگیا۔ پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا. جس کے بعد اب پولنگ اسٹیشنز کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں تاہم پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں موجود ووٹرز کو اپنا ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔گلگت بلتستان میں اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں 24 حلقوں پر 396 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ساڑھے 9 لاکھ سے زائد ووٹرز کے لیے 1368 پولنگ اسٹیشن قائم کیے، جن میں 551 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں 9 لاکھ 58 ہزار 480 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے، جن میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد ووٹرز اور 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔پولنگ کے اختتام کے بعد مختلف پولنگ اسٹیشنوں سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی نظریں حتمی نتائج پر مرکوز ہیں۔انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات نظر آئے۔ صرف گلگت کے تین حلقوں میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا اور ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔انتخابی مہم کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور سرگرمیاں جاری رکھیں، جن میں جلسے، عوامی رابطہ مہم، وعدے اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی شامل رہا۔پاکستان پیپلز پارٹی نے ان انتخابات میں سب سے زیادہ یعنی 23 امیدوار کھڑے کیے ہیں، اس کے بعد دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن ہے. جس کے 22 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 19 آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی نے 15، پاکستان نظریاتی پارٹی نے 10 حلقوں سے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اسلامی تحریک پاکستان کے 9، 9 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جب کہ مجلس وحدت مسلمین کے 7 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے 6،6 امیدوار نامزد کیے ہیں جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کے 4 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔انتخابات میں مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ 8 خواتین امیدوار بھی مختلف حلقوں میں انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں۔گلگت بلتستان اسمبلی کے یہ چوتھے عام انتخابات ہیں. جنہیں خطے میں سیاسی استحکام اور عوامی نمائندگی کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *