پاکستان کے لیے دو ارب ڈالرز کی قسط، آئی ایم ایف نے 11 نئی شرائط عائد کردیں

پاکستان نیوز پوائنٹ
آئی ایم ایف نے نان فائلرز کا مکمل ڈیٹا تیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نان فائلرزکوٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے بینکوں کے ذریعے ڈیجیٹل طریقہ کار اپنایا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر جاری مذاکرات آج اپنے حتمی اور فیصلہ کن دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے نئے ٹیکسز، ٹیکس پالیسی اسکیمز اور سخت ٹیکس اقدامات کے ذریعے وفاقی حکومت سے مزید 500 ارب روپے جمع کرنے کا ہنگامی مطالبہ کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر مالی سال 2026-27 میں ‘ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم’ کو مکمل طور پر نافذ کرے گا، جس سے 100 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے اور یکم جولائی 2026 سے ملک میں صرف ڈیجیٹل انوائسز ہی قابلِ قبول ہوں گی۔اس کے علاوہ، آئندہ بجٹ میں فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان فرق کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطالبے پر نان فائلرز کا مکمل ڈیٹا تیار کیا جا رہا ہے اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بینکنگ ڈیٹا اور آن لائن بینکنگ کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے گا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں اضافے سے مزید 100 ارب روپے کا ٹیکس لیا جائے گا۔آئی ایم ایف نے ایف بی آر کی اس تجویز پر اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت اب بچوں کا انفنٹ فارمولا (ڈبے کا دودھ)، عام دودھ، ڈیری مصنوعات، کوکنگ آئل اور دیگر روزمرہ کی اشیاء کو تھرڈ شیڈول میں شامل کر کے ٹیکس لگایا جائے گا۔دوسری جانب، ریٹیلرز اور دکانداروں کے لیے ایک نہایت سادہ اسکیم لائی جا رہی ہے جس سے 100 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ یہ اسکیم 20 سے 25 کروڑ روپے سالانہ ٹرن اوور والے دکانداروں پر لاگو ہوگی اور ان کے ٹیکس کا تعین بجلی کے بلوں کی بنیاد پر کیا جائے گا. تاہم ٹیئر-ون ریٹیلرز اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔صنعتی شعبے کے دباؤ کے باوجود آئندہ بجٹ میں ‘سپر ٹیکس’ کو ختم نہیں کیا جائے گا. بلکہ حکومت اسے اگلے 3 برسوں میں مرحلہ وار ختم کرنے کے میکانزم پر کام کر رہی ہے۔انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر ٹیکس بھی برقرار رہے گا۔ البتہ حکومت نے مالی سال 2022 میں نافذ ہونے والے بیرونِ ملک اثاثوں پر 1 فیصد ‘کیپٹل ویلیو ٹیکس’ (CVT) کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے.جس پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *