پاکستان نیوز پوائنٹ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس صورتحال کا براہِ راست ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی انہی قوتوں کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پر عائد کردہ الزامات حقائق کے برعکس ہیں ۔ عالمی برادری کو اصل محرکات پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں موجود غیر یقینی کیفیت انہی قوتوں کی دین ہے جو مسلسل کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں یا دباؤ سے مرعوب ہونے والا نہیں ہے۔ تہران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے اور ہر ممکن دفاعی اقدام اٹھانے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی خطرناک صورتحال کے تمام تر ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔ یہ خطہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی سیکیورٹی کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب امریکی قیادت کی جانب سے تہران کو سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو تنبیہ کی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو 24 گھنٹوں کے دوران جہازوں کی نقل و حمل کے لیے مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو سخت ردعمل سامنے آئے گا۔ خطے میں جاری اس تازہ ترین سفارتی اور فوجی کشیدگی نے عالمی منڈیوں اور عالمی طاقتوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم آبی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں معمولی سا تصادم بھی عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری اس لفظی جنگ نے خطے میں فوجی نقل و حرکت کو بھی تیز کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس حساس صورتحال میں سفارتکاری کے دروازے کھلے رکھنا ہی واحد راستہ ہے، بصورت دیگر کسی بھی قسم کی غلط فہمی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
